ملائمت
معنی
١ - مزاج یا طبیعت وغیرہ سے موافقت، مناسبت، نرمی، نرم مزاجی۔ دشمن کی ملائمت بلا ہے یہ موم کا سانپ کاٹتا ہے ( ١٨٤٧ء، کلیات منیر، ٢٧٧:١ ) ٢ - نرم یا لچک دار ہونے کی حالت۔ "ریشم چمک دمک، ملائمت کے لحاظ سے خود اپنی مثال ہے۔" ( ١٩٧٥ء، معاشی و تجارتی فنون، ٥٢ ) ٣ - مزاج کی نرمی دھیما پن، مہربانی۔ "ان کی کرختگی کو ملائمت میں تبذیل کرتے ہوئے ان کی نجی حیثیت کو نہاں کیا جائے۔" ( ١٩٨٣ء، تخلیق اور لاشعوری محرکات، ٧٨ ) ٤ - نرمی، لچک، جذباتیت کا نہ ہونا۔ "غزل کی زبان کے لیے صفائی رچاؤ سلاست شیرنی اور ملائمت کی زیادہ کڑی شرطیں عائد کی گئیں۔" ( ١٩٩٥ء، نگار، کراچی، جون، ٦٢ ) ٥ - کمی، تخفیف، دھیماپن۔ ملائمت ہے اندھیرے میں اس کی سانسوں سے دمک رہی ہیں وہ آنکھیں ہرے نگیں کی طرح ( ١٩٧٤ء، ماہ منیر، ٨١ )
اشتقاق
عربی زبان میں ثلاثی مجرد کے باب سے مشتق اسم ہے۔ اردو میں اصل معنی و ساخت کے ساتھ بطور اسم استعمال ہوتا ہے۔ ١٧٤٦ء کو "قصۂ مہر افروز و دلبر" میں مستعمل ملتا ہے۔
مثالیں
٢ - نرم یا لچک دار ہونے کی حالت۔ "ریشم چمک دمک، ملائمت کے لحاظ سے خود اپنی مثال ہے۔" ( ١٩٧٥ء، معاشی و تجارتی فنون، ٥٢ ) ٣ - مزاج کی نرمی دھیما پن، مہربانی۔ "ان کی کرختگی کو ملائمت میں تبذیل کرتے ہوئے ان کی نجی حیثیت کو نہاں کیا جائے۔" ( ١٩٨٣ء، تخلیق اور لاشعوری محرکات، ٧٨ ) ٤ - نرمی، لچک، جذباتیت کا نہ ہونا۔ "غزل کی زبان کے لیے صفائی رچاؤ سلاست شیرنی اور ملائمت کی زیادہ کڑی شرطیں عائد کی گئیں۔" ( ١٩٩٥ء، نگار، کراچی، جون، ٦٢ )