ملت
معنی
١ - دین، مذہب، شریعت۔ "یہ ایک قومی المیہ ہے اور خاص طور پر پاکستان میں ایسے مجاہد دین و ملت کی پذیرائی ضرور ہونی چاہیے۔" ( ١٩٨٩ء، آثار و افکار، ٥٠ ) ٢ - مسلمانوں کی جماعت، گروہ مسلمین۔ "دونوں ملت کے دردمند اور بہی خواہ تھے اور اپنے اپنے انداز سے دونوں مصروف خدمت ملی تھے۔" ( ١٩٩٣ء، قومی زبان، کراچی، ستمبر، ٧٦ ) ٣ - مشرب، مسلک، اصول زندگی، طرز معاشرت۔ پائے بند ملتِ پروانہ ہو اے برہمن قابل داد اس کی ہمت ہے جو زندہ جل گیا ( ١٩٢٦ء، فغان آرزو، ٧٢ ) ٤ - ایک ہی دین، مذہب یا مسلک کو ماننے والوں کا گروہ، ذات، فرقہ، قوم، قومیت (کنایۃً) عوام۔ "یہ ملت آفاقی ہے سارا جہاں اس کا وطن ہے۔" ( ١٩٩٨ء، قومی زبان، کراچی، اپریل، ٨٤ )
اشتقاق
عربی زبان میں ثلاثی مجرد کے باب سے مشتق اسم ہے اردو میں اصل معنی و ساخت کے ساتھ بطور اسم استعمال ہوتا ہے۔ ١٦١١ء کو "کلیات قلی قطب شاہ" میں مستعمل ملتا ہے۔
مثالیں
١ - دین، مذہب، شریعت۔ "یہ ایک قومی المیہ ہے اور خاص طور پر پاکستان میں ایسے مجاہد دین و ملت کی پذیرائی ضرور ہونی چاہیے۔" ( ١٩٨٩ء، آثار و افکار، ٥٠ ) ٢ - مسلمانوں کی جماعت، گروہ مسلمین۔ "دونوں ملت کے دردمند اور بہی خواہ تھے اور اپنے اپنے انداز سے دونوں مصروف خدمت ملی تھے۔" ( ١٩٩٣ء، قومی زبان، کراچی، ستمبر، ٧٦ ) ٤ - ایک ہی دین، مذہب یا مسلک کو ماننے والوں کا گروہ، ذات، فرقہ، قوم، قومیت (کنایۃً) عوام۔ "یہ ملت آفاقی ہے سارا جہاں اس کا وطن ہے۔" ( ١٩٩٨ء، قومی زبان، کراچی، اپریل، ٨٤ )