ملحق

قسم کلام: صفت ذاتی ( واحد )

معنی

١ - جڑا ہوا، ملا ہوا، جوڑا یا ملایا ہوا، لگا ہوا (مجازًا) متصل، منسلک، پاس پاس، نزدیک۔ "گاؤں سے ملحق دریا کی شاخ کا پاٹھ کوئی سو گز تھا"      ( ١٩٨٩ء، شکاریات، ١٤١ ) ٢ - شامل، داخل، شریک "اس تحریک کے آغاز ہی سے جوش ملیح آبادی بھی اس سے ملحق تصور کیے گئے"      ( ١٩٦٥ء، فکر سخن، ٢٥٤ ) ٣ - ملانے والا۔ "دونوں خبریں ریل سے ملحق مقامات سے روانہ کی گئی تھیں اور شرکت کا نام بھی معنی خیز تھا"      ( ١٩٨٨ء، تذکرہ استخبارات، ١٦٥ )

اشتقاق

عربی زبان میں ثلاثی مجرد کے باب سے مشتق اسم صفت ہے۔ اردو میں اصل معنی و ساخت کے ساتھ بطور صفت استعمال ہوتا ہے۔ ١٨٣٥ء کو "گلدستۂ رنگین" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - جڑا ہوا، ملا ہوا، جوڑا یا ملایا ہوا، لگا ہوا (مجازًا) متصل، منسلک، پاس پاس، نزدیک۔ "گاؤں سے ملحق دریا کی شاخ کا پاٹھ کوئی سو گز تھا"      ( ١٩٨٩ء، شکاریات، ١٤١ ) ٢ - شامل، داخل، شریک "اس تحریک کے آغاز ہی سے جوش ملیح آبادی بھی اس سے ملحق تصور کیے گئے"      ( ١٩٦٥ء، فکر سخن، ٢٥٤ ) ٣ - ملانے والا۔ "دونوں خبریں ریل سے ملحق مقامات سے روانہ کی گئی تھیں اور شرکت کا نام بھی معنی خیز تھا"      ( ١٩٨٨ء، تذکرہ استخبارات، ١٦٥ )

اصل لفظ: لحق