ملوث

قسم کلام: صفت ذاتی ( واحد )

معنی

١ - آلودہ، لتھڑا ہوا، خصوصاً کسی گندگی وغیرہ میں مبتلا، (مجازًا) ناپاک، نجس، تردامن، پلید۔ "مزاروں پر لوگ جاتے تھے تو وہاں کیا ہوتا تھا، عیش پرستی. مخنث بازی میں بادشاہ و امرا سے لے کر عوام تک ملوث تھے"      ( ١٩٨٢ء، تاریخ ادب اردو، ١٧٠:١،٢ ) ٢ - شامل، شریک۔ "حکومت کی سیاست میں ملوث کہلانا بھی پسند نہیں کرتے"      ( ١٩٩٦ء، قومی زبان، کراچی، دسمبر، ١١٣ ) ٣ - مقدمہ میں ماخوذ ہونا۔ "وہ کسی جھگڑے میں ملوث ہو کر کچہری حاضری کے لیے آیا تھا"      ( ١٩٩٦ء، قومی زبان، کراچی، مئی، ٦٣ ) ٤ - گنہ گار، قصور وار۔ "اسی مجرمانہ غفلت میں نامور اشاعتی ادارے میں ملوث ہیں"      ( ١٩٨٠ء، آثار و افکار، ٥٢ )

اشتقاق

عربی زبان میں ثلاثی مجرد کے باب سے مشتق اسم صفت ہے۔ اردو میں اصل معنی و ساخت کے ساتھ بطور صفت استعمال ہوتا ہے۔ ١٧٨٠ء کو "کلیات سودا" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - آلودہ، لتھڑا ہوا، خصوصاً کسی گندگی وغیرہ میں مبتلا، (مجازًا) ناپاک، نجس، تردامن، پلید۔ "مزاروں پر لوگ جاتے تھے تو وہاں کیا ہوتا تھا، عیش پرستی. مخنث بازی میں بادشاہ و امرا سے لے کر عوام تک ملوث تھے"      ( ١٩٨٢ء، تاریخ ادب اردو، ١٧٠:١،٢ ) ٢ - شامل، شریک۔ "حکومت کی سیاست میں ملوث کہلانا بھی پسند نہیں کرتے"      ( ١٩٩٦ء، قومی زبان، کراچی، دسمبر، ١١٣ ) ٣ - مقدمہ میں ماخوذ ہونا۔ "وہ کسی جھگڑے میں ملوث ہو کر کچہری حاضری کے لیے آیا تھا"      ( ١٩٩٦ء، قومی زبان، کراچی، مئی، ٦٣ ) ٤ - گنہ گار، قصور وار۔ "اسی مجرمانہ غفلت میں نامور اشاعتی ادارے میں ملوث ہیں"      ( ١٩٨٠ء، آثار و افکار، ٥٢ )

اصل لفظ: لوث