ملک
معنی
١ - خطۂ زمین جو جغرافیائی یا سیاسی لحاظ سے ایک وحدت سمجھا جائے، مملکت، علاقہ، قلمرو، اقلیم، عمل داری، سلطنت، بادشاہی۔ "ملک میں ٹی وی کے متعارف سے اہل لاہور میں فلم بینی کا رجحان کم ہوتے ہوتے معدوم ہو گیا ہے" ( ١٩٩٩ء، اردو نامہ، لاہور، اپریل،٩ ) ٢ - وطن، دیس، شہر، نگر، بلدہ، ولایت "عوام کی خدمت ہمارا فرض ہے مسجد ہو، ملک یا محلہ ہماری خدمت بے مثال ہے" ( ١٩٨٧ء، باتوں کی بارش میں بھیگتی لڑکی، ٧٠۔ ) ٣ - ملک کے لوگ، خلق۔ "خلقت، لوگ (جیسے سارا ملک امڈا آیا) ( ١٩٠٨ء فرہنگ آصفیہ، ٤٠٢:٤ ) ٥ - [ تصوف ] عالم ناسوت اور عالم شہادت کو کہتے ہیں۔ "ملک و ملکوت دونوں عالم شہادت فی الخارج میں ہیں اور عالم غیب ان کے ماورا ہے" ( ١٩٢١ء، مصاح التعرف۔ ٢٤٥۔ )
اشتقاق
عربی زبان میں ثلاثی مجرد کے باب سے مشتق اسم ہے، اردو میں اصل معنی و ساخت کے ساتھ بطور اسم استعمال ہوتا ہے۔ ١٥٠٣ء کو "اردو ادب" کے حوالے سے نوسرہار میں مستعمل ملتا ہے۔
مثالیں
١ - خطۂ زمین جو جغرافیائی یا سیاسی لحاظ سے ایک وحدت سمجھا جائے، مملکت، علاقہ، قلمرو، اقلیم، عمل داری، سلطنت، بادشاہی۔ "ملک میں ٹی وی کے متعارف سے اہل لاہور میں فلم بینی کا رجحان کم ہوتے ہوتے معدوم ہو گیا ہے" ( ١٩٩٩ء، اردو نامہ، لاہور، اپریل،٩ ) ٢ - وطن، دیس، شہر، نگر، بلدہ، ولایت "عوام کی خدمت ہمارا فرض ہے مسجد ہو، ملک یا محلہ ہماری خدمت بے مثال ہے" ( ١٩٨٧ء، باتوں کی بارش میں بھیگتی لڑکی، ٧٠۔ ) ٣ - ملک کے لوگ، خلق۔ "خلقت، لوگ (جیسے سارا ملک امڈا آیا) ( ١٩٠٨ء فرہنگ آصفیہ، ٤٠٢:٤ ) ٥ - [ تصوف ] عالم ناسوت اور عالم شہادت کو کہتے ہیں۔ "ملک و ملکوت دونوں عالم شہادت فی الخارج میں ہیں اور عالم غیب ان کے ماورا ہے" ( ١٩٢١ء، مصاح التعرف۔ ٢٤٥۔ )