ممتحن

قسم کلام: صفت ذاتی ( واحد )

معنی

١ - امتحان لینے والا، جانچنے والا نیز آزمانے والا، پرکھنے والا۔ "جامعہ عثمانیہ میں منعقدہ پہلے ایل ایل بی امتحانات میں تمام تر ممتحن حضرات ریاست سے باہر کے تھے۔"      ( ١٩٩٥ء، اردو نامہ، لاہور، جنوری، ١٠ ) ٢ - محاسب، آڈیٹر۔ "چشتی صاحب جو چھ سال تک ریلوے کے حسابوں کے ممتحن رہے تھے . انہوں نے شہادت میں کہا۔"      ( ١٩٠٧ء، کرزن، نامہ، ١١٩ )

اشتقاق

عربی زبان میں ثلاثی مجرد کے باب سے مشتق اسم صفت ہے۔ اردو میں اصل معنی و ساخت کے ساتھ بطور صفت استعمال ہوتا ہے ١٨١٠ء کو "کلیات میر" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - امتحان لینے والا، جانچنے والا نیز آزمانے والا، پرکھنے والا۔ "جامعہ عثمانیہ میں منعقدہ پہلے ایل ایل بی امتحانات میں تمام تر ممتحن حضرات ریاست سے باہر کے تھے۔"      ( ١٩٩٥ء، اردو نامہ، لاہور، جنوری، ١٠ ) ٢ - محاسب، آڈیٹر۔ "چشتی صاحب جو چھ سال تک ریلوے کے حسابوں کے ممتحن رہے تھے . انہوں نے شہادت میں کہا۔"      ( ١٩٠٧ء، کرزن، نامہ، ١١٩ )

اصل لفظ: محن