ممدوح

قسم کلام: صفت ذاتی ( واحد )

معنی

١ - جس کی تعریف کی جائے، جس کی مدح میں شعر کہا گیا ہو۔ "ہر انسان اپنے ممدوح کی غیر شعوری طور پر تقلید کرتا ہے۔"      ( ١٩٩٣ء، قومی زبان، کراچی، فروری، ٤٣ ) ٢ - جس کو تعریف سے یاد کیا گیا ہو، جس کا نظم و نثر میں اوپر تعریف سے ذکر آیا ہو یا آنے والا ہو۔ قصیدہ گو جب ممدوح کی شان میں زبان کھولتے تو موتی رولتے۔"      ( ١٩٩١ء، کانا پھوسی، ١١٧ ) ٣ - قابل تعریف، پسندیدہ، اچھا۔ "وہ جو ممدوح ٹھہرے تھے، سراوار عتاب بن گئے۔"      ( ١٩٨٩ء، متوازی نقوش، ٢٠٤ )

اشتقاق

عربی زبان میں ثلاثی مجرد کے باب سے مشتق اسم صفت ہے۔ اردو میں اصل معنی و ساخت کے ساتھ بطور صفت استعمال ہوتا ہے۔ ١٦٥٧ء کو "گلشن عشق" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - جس کی تعریف کی جائے، جس کی مدح میں شعر کہا گیا ہو۔ "ہر انسان اپنے ممدوح کی غیر شعوری طور پر تقلید کرتا ہے۔"      ( ١٩٩٣ء، قومی زبان، کراچی، فروری، ٤٣ ) ٢ - جس کو تعریف سے یاد کیا گیا ہو، جس کا نظم و نثر میں اوپر تعریف سے ذکر آیا ہو یا آنے والا ہو۔ قصیدہ گو جب ممدوح کی شان میں زبان کھولتے تو موتی رولتے۔"      ( ١٩٩١ء، کانا پھوسی، ١١٧ ) ٣ - قابل تعریف، پسندیدہ، اچھا۔ "وہ جو ممدوح ٹھہرے تھے، سراوار عتاب بن گئے۔"      ( ١٩٨٩ء، متوازی نقوش، ٢٠٤ )

اصل لفظ: مدح