ممنوع

قسم کلام: صفت ذاتی ( واحد )

معنی

١ - منع کیا ہو، جس سے منع کیا یا روکا جائے، جس کی بندش ہو، ممتنع، منع۔ "یونیورسٹی کیمپس پر سیاست ممنوع تھی۔"      ( ١٩٨٢ء، میرے لوگ زندہ رہیں گے ) ٢ - جسے کسی بات سے روکا جائے۔ "روح نے اپنے جسم کی خاکی ذرات سے کیا تم اس گھر سے ممنوع تھے۔"      ( ١٩٢٦ء، کائنات بیتی، ١٧ ) ٣ - قانوناً یا شرعاً ناروا، خلافِ قانون، خلاف شرع، ناجائز، غیر قانونی۔ "اسلام کی ابتدائی دور میں راگ ممنوع تھا۔"      ( ١٩٧٩ء، آثار و افکار، ٣٠ ) ١ - وہ شخص جس کو میراث یا ترکہ دیا جانا منع ہے۔ "ممنوع کسی کا حاجب نہیں ہوتا۔"      ( ١٨٨٩ء، تسہیل الفرائض، ١٩ )

اشتقاق

عربی زبان میں ثلاثی مجرد کے باب سے مشتق اسم صفت ہے۔ اردو میں اصل معنی و ساخت کے ساتھ بطور صفت اور اسم استعمال ہوتا ہے۔ ١٨٣٠ء کو "تقویۃ الایمان" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - منع کیا ہو، جس سے منع کیا یا روکا جائے، جس کی بندش ہو، ممتنع، منع۔ "یونیورسٹی کیمپس پر سیاست ممنوع تھی۔"      ( ١٩٨٢ء، میرے لوگ زندہ رہیں گے ) ٢ - جسے کسی بات سے روکا جائے۔ "روح نے اپنے جسم کی خاکی ذرات سے کیا تم اس گھر سے ممنوع تھے۔"      ( ١٩٢٦ء، کائنات بیتی، ١٧ ) ٣ - قانوناً یا شرعاً ناروا، خلافِ قانون، خلاف شرع، ناجائز، غیر قانونی۔ "اسلام کی ابتدائی دور میں راگ ممنوع تھا۔"      ( ١٩٧٩ء، آثار و افکار، ٣٠ ) ١ - وہ شخص جس کو میراث یا ترکہ دیا جانا منع ہے۔ "ممنوع کسی کا حاجب نہیں ہوتا۔"      ( ١٨٨٩ء، تسہیل الفرائض، ١٩ )

اصل لفظ: منع