موجب

قسم کلام: صفت ذاتی

معنی

١ - واجب کرنے والا، لازم کرنے والا، مقرر کرنے والا۔ "علماء سب اس بات پر متفق ہیں کہ خدا قادر ہے اور حکماء یہ کہتے ہیں کہ وہ موجب ہے۔"      ( ١٩٥٩ء، مقالات، ١١٤:١ ) ١ - باعث، سبب، وجہ۔ "میزینی اور گیری بالڈی کی ملاقات منجملہ ان عجیب و غریب واقعات کے ہے جو دنیا میں تہلکہ پیدا کرنے کے موجب ہوتے ہیں۔"      ( ١٩٩٩ء، قومی زبان، کراچی، ستمبر، ٣٥ ) ٢ - مطابق، بموجب۔ "لوگ مقامی کہانی کے حوالے سے اپنی زندگی کے تصورات اور نقوش کی اصلاح کر سکیں جو احکامات خداوندی کے موجب ہر انسان کا فرض ہے"      ( ١٩٨١ء، آثار و افکار، ١٣٧ ) ٣ - محرم کے مہینے کا قدیم نام۔ "ثمود نے ان کا نام موجب، موجر. رکھا تھا چنانچہ موجب محرم ہے اور موجر صفر"      ( ١٩٦٧ء، بلوغ الادب، ٥٩٤:٣ )

اشتقاق

عربی زبان میں ثلاثی مزید مجرد کے باب سے مشتق کلمہ ہے جو اردو میں اضنے اصل معنی و ساخت کے ساتھ بطور اسم و صفت استعمال ہوتا ہے تحریراً سب سے پہلے ١٧١٨ء کو "دیوانِ آبرو" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - واجب کرنے والا، لازم کرنے والا، مقرر کرنے والا۔ "علماء سب اس بات پر متفق ہیں کہ خدا قادر ہے اور حکماء یہ کہتے ہیں کہ وہ موجب ہے۔"      ( ١٩٥٩ء، مقالات، ١١٤:١ ) ١ - باعث، سبب، وجہ۔ "میزینی اور گیری بالڈی کی ملاقات منجملہ ان عجیب و غریب واقعات کے ہے جو دنیا میں تہلکہ پیدا کرنے کے موجب ہوتے ہیں۔"      ( ١٩٩٩ء، قومی زبان، کراچی، ستمبر، ٣٥ ) ٢ - مطابق، بموجب۔ "لوگ مقامی کہانی کے حوالے سے اپنی زندگی کے تصورات اور نقوش کی اصلاح کر سکیں جو احکامات خداوندی کے موجب ہر انسان کا فرض ہے"      ( ١٩٨١ء، آثار و افکار، ١٣٧ ) ٣ - محرم کے مہینے کا قدیم نام۔ "ثمود نے ان کا نام موجب، موجر. رکھا تھا چنانچہ موجب محرم ہے اور موجر صفر"      ( ١٩٦٧ء، بلوغ الادب، ٥٩٤:٣ )

اصل لفظ: وجب