موضوع

قسم کلام: صفت ذاتی ( واحد )

معنی

١ - وضع کردہ، وضع کیا گیا، مراداً: (کسی امر کے لیے) بنا ہوا، ٹھہرایا ہوا۔ "انسان میں ایک مطلق خیر کی تلاش. تابع بنانے والا موضوع بنا دیتی ہے"      ( ١٩٤٧ء، اخلاقیات (مقدمہ)، ٢٩٤۔ ) ١ - [ حدیث ]  گھڑی ہوئی حدیث، جھوٹی حدیث۔ "موضوع حدیث وہ ہے جسے کوئی جھوٹا آدمی گھڑ کے رسول اللہۖ کی جانب منسوب کر دے"      ( ١٩٨٩ء، علوم الحدیث (ترجمہ)، ٣٢٠۔ ) ٢ - جعلی، بناوٹی، گھڑی ہوئی بات، دل سے بنایا ہوا قصہ۔ "اسی طرح ان لوگوں کو بھی سخت مجرم قرار دیا ہے جو ایسے لوگوں کو امام بنا کر موضوع اور غلط روایات سننے کے عادی ہو گئے ہیں"      ( ١٩٧١ء، معارف القرآن، ١٥٦:٣۔ ) ١ - اصل مقصود جس سے کسی علم پر بحث کی جائے، وہ شے جس کا ذکر اس علم میں ہو، وہ علم جس میں کسی علم کے عوارض ذاتیہ سے بحث کی جائے، مقصد کلام، مضمون، بحث، مدعا، (ادب) کسی نثر یا نظم میں بحث و بیان کا مرکزی خیال۔ "کسی موضوع پر لب کشائی کرنے سے قبل اس کے ایک ایک پہلو کو ذہن میں تولتے اور پھر بولتے ہیں"      ( ١٩٩٦ء، حضور احمد سلیم ایک مطالعہ، ١٨۔ ) ٢ - [ منطق ]  وہ مبدا یا خبر جس کے بارے میں اقرار یا انکار کیا گیا ہو، محکوم الیہ۔ "قیاس کی تین حدود میں سے دو نتیجہ میں موضوع اور محمول بنتی ہیں"      ( ١٩٦٥ء، تعارف منطق جدید، ١٠٤۔ ) ٣ - [ اقلیدس ]  وہ اصول جو علم ہندسہ میں بالاتفاق مسلم ہیں۔ "ارسطو نے موضع، ذریعہ (Medium) اور ٹیکنیک میں فرق بتلایا۔      ( ١٩٦٦ء، اشارات تنقید۔ ٢٤۔ ) ٤ - [ فلسفہ ]  وہ شے جس میں کوئی صورت جوہر یہ حلول کر سکے، ہیولٰی کا ایک نام۔ "ہیولٰی کے اور بھی نام ہیں مگر یہ سب اضافی اور اعتباری ہیں، چنانچہ ہیولٰی کو موضوع بھی کہتے ہیں کیونکہ یہ کسی نہ کسی امر کا حامل (اٹھانے والا) ہوتا ہے"      ( ١٩٨٥ء، اردو دائرہ معارف اسلامیہ، ٢٤٥:١٨۔ ) ٥ - [ لسانیات۔ ]  اردو کا وہ لفظ جو معنے کے لیے عربی قاعدے سے بنایا گیا ہو، بامعنی لفظ، کسی فقرے میں موجود وہ لفظ یا مجموعہ الفاظ جس کے ذریعے کسی کام کا ہونا یا کرنا پایا جائے۔ ١٨٩ء، رسالہ'حسن' مارچ، ٢٩۔

اشتقاق

عربی زبان میں ثلاثی مجرد کے باب سے مشتق اسم مفعول ہے جو اردو میں اپنے معنی و ساخت کے اعتبار سے بطور صفت نیز بطور اسم استعمال ہوتا ہے۔ تحریراً سب سے پہلے ١٨١٠ء کو "کلیاتِ میر" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - وضع کردہ، وضع کیا گیا، مراداً: (کسی امر کے لیے) بنا ہوا، ٹھہرایا ہوا۔ "انسان میں ایک مطلق خیر کی تلاش. تابع بنانے والا موضوع بنا دیتی ہے"      ( ١٩٤٧ء، اخلاقیات (مقدمہ)، ٢٩٤۔ ) ١ - [ حدیث ]  گھڑی ہوئی حدیث، جھوٹی حدیث۔ "موضوع حدیث وہ ہے جسے کوئی جھوٹا آدمی گھڑ کے رسول اللہۖ کی جانب منسوب کر دے"      ( ١٩٨٩ء، علوم الحدیث (ترجمہ)، ٣٢٠۔ ) ٢ - جعلی، بناوٹی، گھڑی ہوئی بات، دل سے بنایا ہوا قصہ۔ "اسی طرح ان لوگوں کو بھی سخت مجرم قرار دیا ہے جو ایسے لوگوں کو امام بنا کر موضوع اور غلط روایات سننے کے عادی ہو گئے ہیں"      ( ١٩٧١ء، معارف القرآن، ١٥٦:٣۔ ) ١ - اصل مقصود جس سے کسی علم پر بحث کی جائے، وہ شے جس کا ذکر اس علم میں ہو، وہ علم جس میں کسی علم کے عوارض ذاتیہ سے بحث کی جائے، مقصد کلام، مضمون، بحث، مدعا، (ادب) کسی نثر یا نظم میں بحث و بیان کا مرکزی خیال۔ "کسی موضوع پر لب کشائی کرنے سے قبل اس کے ایک ایک پہلو کو ذہن میں تولتے اور پھر بولتے ہیں"      ( ١٩٩٦ء، حضور احمد سلیم ایک مطالعہ، ١٨۔ ) ٢ - [ منطق ]  وہ مبدا یا خبر جس کے بارے میں اقرار یا انکار کیا گیا ہو، محکوم الیہ۔ "قیاس کی تین حدود میں سے دو نتیجہ میں موضوع اور محمول بنتی ہیں"      ( ١٩٦٥ء، تعارف منطق جدید، ١٠٤۔ ) ٣ - [ اقلیدس ]  وہ اصول جو علم ہندسہ میں بالاتفاق مسلم ہیں۔ "ارسطو نے موضع، ذریعہ (Medium) اور ٹیکنیک میں فرق بتلایا۔      ( ١٩٦٦ء، اشارات تنقید۔ ٢٤۔ ) ٤ - [ فلسفہ ]  وہ شے جس میں کوئی صورت جوہر یہ حلول کر سکے، ہیولٰی کا ایک نام۔ "ہیولٰی کے اور بھی نام ہیں مگر یہ سب اضافی اور اعتباری ہیں، چنانچہ ہیولٰی کو موضوع بھی کہتے ہیں کیونکہ یہ کسی نہ کسی امر کا حامل (اٹھانے والا) ہوتا ہے"      ( ١٩٨٥ء، اردو دائرہ معارف اسلامیہ، ٢٤٥:١٨۔ )

اصل لفظ: وضع