مٹکا

قسم کلام: اسم نکرہ

معنی

١ - پانی رکھنے کا بیضوی شکل کا مٹی کا بنا ہوا بڑا گھڑا جو بڑے منہ کا ہوتا ہے؛ مٹی کا بڑا گھڑا، گگرا، خم کلاں (مٹکا عام طور سے مٹی یا تانبے وغیرہ کا ہوتا ہے)۔ "مندر کی چاردیواری میں ایک پیپل کا درخت ہے جس کے نیچے رستے کے عین نکڑ پر پانی کا مٹکا ہے۔"      ( ١٩٩٦ء، افکار، کراچی، فروری، ٦٧ )

اشتقاق

سنسکرت زبان کا لفظ 'مارتک+ک' سے 'مٹکا' بنا۔ اردو میں اسم استعمال ہوتا ہے اور تحریراً ١٦٢٥ء کو "بکٹ کہانی" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - پانی رکھنے کا بیضوی شکل کا مٹی کا بنا ہوا بڑا گھڑا جو بڑے منہ کا ہوتا ہے؛ مٹی کا بڑا گھڑا، گگرا، خم کلاں (مٹکا عام طور سے مٹی یا تانبے وغیرہ کا ہوتا ہے)۔ "مندر کی چاردیواری میں ایک پیپل کا درخت ہے جس کے نیچے رستے کے عین نکڑ پر پانی کا مٹکا ہے۔"      ( ١٩٩٦ء، افکار، کراچی، فروری، ٦٧ )

اصل لفظ: مارتک+ک
جنس: مذکر