مچھیرا

قسم کلام: اسم نکرہ

معنی

١ - ماہی گیر، مچھلیاں پکڑنے اور فروخت کرناے والا۔ "اگر مچھیرے تمہیں نہ بچاتے تو تم کب کے مر چکے ہوتے۔"      ( ١٩٩٨ء، کہانی مجھے لکھتی ہے، ٣٣ )

اشتقاق

سنسکرت زبان سے ماخوذ اسم 'مچھ' کے ساتھ 'یرا' بطور لاحقہ صفت و نسبت لگانے سے بنا۔ اردو میں بطور اسم نیز صفت استعمال ہوتا ہے۔ اور تحریراً صفت و نسبت لگانے سے بنا۔ اردو میں بطور اسم نیز صفت استعمال ہوتا ہے اور تحریراً ١٩٢٥ء کو "حکایات لطفیہ" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - ماہی گیر، مچھلیاں پکڑنے اور فروخت کرناے والا۔ "اگر مچھیرے تمہیں نہ بچاتے تو تم کب کے مر چکے ہوتے۔"      ( ١٩٩٨ء، کہانی مجھے لکھتی ہے، ٣٣ )

جنس: مذکر