مکان
معنی
١ - جگہ، ٹھکانا، مقام، وسعت جس میں کوئی وجود سما سکے یا سمایا ہو (زمان کے برخلاف)۔ "مکان (Space) اسے بعض فلاسفر جسم خیال کرتے ہیں۔" ( ١٩٩١ء، سرگزشت فلسفہ، ٢٠٦:٢ ) ٢ - رہنے کے لیے بنی ہوئی عمارت یا جگہ، مسکن، حویلی، گھر، مقام بود و باش۔ "تھوڑے دن بعد ہی وہ اپنے نئے مکان میں منتقل ہوگئے۔" ( ١٩٩٤ء، ڈاکٹر فرمان فتحپوری، حیات و خدمات، ٣٦:١ ) ٣ - [ مجازا ] اہل خانہ، گھر کے لوگ۔ "تمہارے مکان میں خیرت ہے۔" ( ١٩٠١ء، فرہنگ آصفیہ، ٣٨٩:٤ ) ٤ - اہلیہ، بیگم، بیوی۔ "مسز کی جگہ 'محل' ہی نہیں 'مکان' کا لفظ استعمال کرتے رہے مثال کے طور پر، "کیا آپ کے مکان خیریت سے ہیں۔" ( ١٩٧٤ء، پھر نظر میں پھول مہکے، ٥٧ ) ٥ - [ قدیم ] مقام، رتبہ، درجہ۔ "یہ مرد مسلمان بے پناہ ہے، مکان کی حد بندیوں سے ماورا اور بے نیاز ہے۔" ( ١٩٩٤ء، نگار، کراچی، جولائی، ٤٤ )
اشتقاق
عربی زبان میں ثلاثی مجرد کے باب سے مشتق اسم ہے۔ اردو میں اصل معنی و ساخت کے ساتھ بطور اسم استعمال ہوتا ہے۔ ١٧٠٩ء کو "قطب مشتری" میں مستعمل ملتا ہے۔
مثالیں
١ - جگہ، ٹھکانا، مقام، وسعت جس میں کوئی وجود سما سکے یا سمایا ہو (زمان کے برخلاف)۔ "مکان (Space) اسے بعض فلاسفر جسم خیال کرتے ہیں۔" ( ١٩٩١ء، سرگزشت فلسفہ، ٢٠٦:٢ ) ٢ - رہنے کے لیے بنی ہوئی عمارت یا جگہ، مسکن، حویلی، گھر، مقام بود و باش۔ "تھوڑے دن بعد ہی وہ اپنے نئے مکان میں منتقل ہوگئے۔" ( ١٩٩٤ء، ڈاکٹر فرمان فتحپوری، حیات و خدمات، ٣٦:١ ) ٣ - [ مجازا ] اہل خانہ، گھر کے لوگ۔ "تمہارے مکان میں خیرت ہے۔" ( ١٩٠١ء، فرہنگ آصفیہ، ٣٨٩:٤ ) ٤ - اہلیہ، بیگم، بیوی۔ "مسز کی جگہ 'محل' ہی نہیں 'مکان' کا لفظ استعمال کرتے رہے مثال کے طور پر، "کیا آپ کے مکان خیریت سے ہیں۔" ( ١٩٧٤ء، پھر نظر میں پھول مہکے، ٥٧ ) ٥ - [ قدیم ] مقام، رتبہ، درجہ۔ "یہ مرد مسلمان بے پناہ ہے، مکان کی حد بندیوں سے ماورا اور بے نیاز ہے۔" ( ١٩٩٤ء، نگار، کراچی، جولائی، ٤٤ )