مہلک

قسم کلام: صفت ذاتی

معنی

١ - ہلاک کرنے والا، مار ڈالنے والا، ہلاکت خیز قاتل؛ (مجازاً) ضرر رساں۔  یہ انسانی بلاخود خون انسانی کی گاہک ہے وبا سے بڑھ کے مہلک موت سے بڑھ کر بھیانک ہے      ( ١٩٥٥ء، مجاز، ذہنگ، ٨٩ ) ٢ - خطرناک؛ (مجازاً) ہنگامہ خیز۔ "یہ غنیمت ہے کہ ان کا شہرآشوب ابھی تک ایک مہلک سرنوشت نہیں بنا ہے۔"      ( ١٩٩٩ء، آئیڈیل منافق، ٢٥ )

اشتقاق

عربی زبان میں ثلاثی مجرد کے باب سے مشتق اسم فاعل ہے جو اردو میں اپنے اصل معنی و ساخت کے ساتھ بطور صفت استعمال ہوتا ہے۔ تحریراً سب سے پہلے ١٨٧٦ء کو "تہذیب الاخلاق" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

٢ - خطرناک؛ (مجازاً) ہنگامہ خیز۔ "یہ غنیمت ہے کہ ان کا شہرآشوب ابھی تک ایک مہلک سرنوشت نہیں بنا ہے۔"      ( ١٩٩٩ء، آئیڈیل منافق، ٢٥ )

اصل لفظ: ہلک