میراث

قسم کلام: اسم نکرہ

معنی

١ - وہ جائیداد جو کسی شخص کے مرنے کے بعد اس کے وارثوں کو ملے، مردے کا مال جو وارثوں کو دیا جائے، ترکہ، ورثہ "یہی صورت قانونِ روما میں بیٹی کی میراث کی ہے۔"      ( ١٩٧٨ء، مجموعۂ قوانین اسلام (مقدمہ)، ١٥٥١:٥ ) ٢ - جاگیر سچاءی، نیکی، حسن کسی کی میراث نہیں"      ( ١٩٣٥ء، چند ہم عصر ، ١٩٥ )

اشتقاق

عربی زبان میں ثلاثی مجرد کے باب سے مشتق کلمہ ہے جو اردو میں اپنے اصل معنی وساخت کے ساتھ بطور اسم استعمال ہوتا ہے تحریراً سب سے پہلے ١٦٦٥ء کو "علی نامہ" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - وہ جائیداد جو کسی شخص کے مرنے کے بعد اس کے وارثوں کو ملے، مردے کا مال جو وارثوں کو دیا جائے، ترکہ، ورثہ "یہی صورت قانونِ روما میں بیٹی کی میراث کی ہے۔"      ( ١٩٧٨ء، مجموعۂ قوانین اسلام (مقدمہ)، ١٥٥١:٥ ) ٢ - جاگیر سچاءی، نیکی، حسن کسی کی میراث نہیں"      ( ١٩٣٥ء، چند ہم عصر ، ١٩٥ )

اصل لفظ: ورث
جنس: مؤنث