میلاد
معنی
١ - پیدائش، ولادت نیز پیدا ہونے کا وقت یا زمانہ، پیدائش کا وقت ہے پر تو رات پر روز میلاد پیمبر کا کھلی ہے چاندنی نکھرا ہوا ہے روپ منظر کا ( ١٩٨٦ء، سازِ حجاز، ٧١ ) ٢ - پیدائش رسولۖ "وہ اتوار کی شام کو میلاد کی رات مناتے ہیں" ( ١٩٦٧ء، بلوغ الارب، ١٧٦:٢ ) ٤ - ذکرِ پیدائشِ رسولۖ ؛ محفل میلاد، وہ محفل جس میں نظماً یا نژاً رسول خداۖ کے فضائل اور انکا ذکرِ ولات ہو۔ "کیا میلاد اور کیا مجلس ہر صنف اور ہر ادارے کو ایک نیا ہنڈی کردار عطا کیا ہے۔" ( ١٩٨٨ء، دہلوی مرثیہ گو، ٣٩ )
اشتقاق
عربی زبان میں ثلاثی مجرد کے باب سے مشتق کلمہ ہے جو اردو میں اپنے اصل معنی و ساخت کے ساتھ بطور اسم استعمال ہوتا ہے تحریراً سب سے پہلے ١٨٧٣ء کو "فسانہ معقول" میں مستعمل ملتا ہے۔
مثالیں
٢ - پیدائش رسولۖ "وہ اتوار کی شام کو میلاد کی رات مناتے ہیں" ( ١٩٦٧ء، بلوغ الارب، ١٧٦:٢ ) ٤ - ذکرِ پیدائشِ رسولۖ ؛ محفل میلاد، وہ محفل جس میں نظماً یا نژاً رسول خداۖ کے فضائل اور انکا ذکرِ ولات ہو۔ "کیا میلاد اور کیا مجلس ہر صنف اور ہر ادارے کو ایک نیا ہنڈی کردار عطا کیا ہے۔" ( ١٩٨٨ء، دہلوی مرثیہ گو، ٣٩ )