میلہ

قسم کلام: اسم نکرہ

معنی

١ - مجمع عام ، ازدحام، انبوہ، ہجوم، ٹھیلا، کسی خاص جگہ پر عام لوگوں کا اکٹھا ہونا ہر وہ مقام جہاں تاریخ معینہ پر سال میں ایک بار لوگوں کا اجتماع ہو اور اس میں باالعموم خرید و فروخت اور کھیل نمائشوں کا بھی اہتمام ہو؛ مجازاً وہ جگہ جہاں بہت سارے لوگ یا عام لوگ جمع ہوں۔  میلہ لگا ہے چار طرف سناٹوں کا کہیں کہیں کوئی سایہ سسکی لیتا ہے      ( ١٩٨٨ء، برگد، ٦٨ ) ٢ - عید کا دن، خوشی منانے کا دن "جس نے انسانوں کو بڑھاپے کی تلخی دفع کرنے کیلئے شراب دی تھی میلے (یعنی عیدوں کے دن) مقرر کئے۔"      ( ١٩٤١ء، کتاب الہند (ترجمہ)، ١٣٥ )

اشتقاق

سنسکرت زبان سے ماخوذ اسم ہے جو اردو میں اپنے اصل معنی اور متداول ساخت و تلفظ کے ساتھ عربی رسم الخط میں بطور اسم ہی استعمال ہوتا ہے۔ تحریراً سب سے پہلے ١٦٨٢ء، کو "مثنوی رضوان شاہ و رُوخ افزا" میں مستعمل ملتان ہے۔

مثالیں

٢ - عید کا دن، خوشی منانے کا دن "جس نے انسانوں کو بڑھاپے کی تلخی دفع کرنے کیلئے شراب دی تھی میلے (یعنی عیدوں کے دن) مقرر کئے۔"      ( ١٩٤١ء، کتاب الہند (ترجمہ)، ١٣٥ )

جنس: مذکر