نابغہ

قسم کلام: صفت ذاتی ( واحد )

معنی

١ - نہایت اعلٰی ذہنی صلاحیتوں کا مالک، غیر معمولی، اختراعی اور تخلیقی قوت رکھنے والا، غیر معمولی ذہین، عبقری۔ "صرف ایک آنچ کم رہ جائے تو نابغہ اور زیادہ تاؤ کھا جائے تو پاگل۔"      ( ١٩٩١ء، قومی زبان، کراچی، جولائی، ٤٥ )

اشتقاق

عربی میں ثلاثی مجرد کے باب سے مشتق اسم 'نابغ' کے ساتھ 'ہ' بطور لاحقہ نسبت و تانیث بڑھانے سے 'نابغہ' بنا۔ اردو میں بطور صفت استعمال ہوتا ہے اور سب سے پہلے ١٩٦٩ء کو "نفسیات کی بنیادیں (ترجمہ)" میں تحریراً مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - نہایت اعلٰی ذہنی صلاحیتوں کا مالک، غیر معمولی، اختراعی اور تخلیقی قوت رکھنے والا، غیر معمولی ذہین، عبقری۔ "صرف ایک آنچ کم رہ جائے تو نابغہ اور زیادہ تاؤ کھا جائے تو پاگل۔"      ( ١٩٩١ء، قومی زبان، کراچی، جولائی، ٤٥ )

اصل لفظ: نبغ