نالہ

قسم کلام: اسم کیفیت

معنی

١ - فریاد، زاری، نوحہ، گریہ، آہ و بکا۔ "صدیوں کے بعد مسلمانوں کے دبے جذبات ایک نغمہ اور تالہ بن کر بہہ رہے تھے۔"      ( ١٩٨٢ء، آتشِ چنار، ١٧٩ ) ٢ - [ تصوف ]  عاشق کی وہ مناجات جو معشوق کی طرف ہو، عاشق کی دعا۔ (مصباح التعرف)۔ ٣ - غل، نعرہ۔ "وہ آہ کا نعرہ مار کے بادشاہ زادہ بچھاڑ کھا کے گرا تو نیم مردہ ہو گیا۔"      ( ١٧٤٦ء، قصۂ مہر افروز و دلبر، ٤٨ )

اشتقاق

فارسی سے اصل مفہوم کے ساتھ اردو میں داخل ہوا اور بطور اسم استعمال ہوتا ہے۔ اردو میں سب سے پہلے ١٦٢٥ء کو "بکٹ کہانی" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - فریاد، زاری، نوحہ، گریہ، آہ و بکا۔ "صدیوں کے بعد مسلمانوں کے دبے جذبات ایک نغمہ اور تالہ بن کر بہہ رہے تھے۔"      ( ١٩٨٢ء، آتشِ چنار، ١٧٩ ) ٣ - غل، نعرہ۔ "وہ آہ کا نعرہ مار کے بادشاہ زادہ بچھاڑ کھا کے گرا تو نیم مردہ ہو گیا۔"      ( ١٧٤٦ء، قصۂ مہر افروز و دلبر، ٤٨ )

جنس: مذکر