ناپ

قسم کلام: اسم نکرہ ( مذکر، مؤنث - واحد )

معنی

١ - کسی چیز یا جسم کی جسامت (طول و عرض)، ماپ۔ "جارج پنجم کی کھوئی ہوئی ناک کی ناپ اس کے پاس تھی۔"      ( ١٩٩٣ء، قومی زبان، کراچی، جولائی، ٦٧ ) ٢ - ناپ تول کرنے یا پیمائش کرنے کا آلہ، پیمانہ یا ظرف۔ "اور اس کے بعد تجربات کو انہیں پیمانوں سے ناپ ناپ کر مقررہ بوتلوں میں بھرتا ہے۔"      ( ١٩٨٨ء، ارمغانِ عالی، ٢٦ )

اشتقاق

سنسکرت سے اردو میں ماخوذ ہے اور عربی رسم الخط میں بطور اسم استعمال ہوتا ہے۔ ١٩٥١ء کو "زیرِ لب" میں تحریراً مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - کسی چیز یا جسم کی جسامت (طول و عرض)، ماپ۔ "جارج پنجم کی کھوئی ہوئی ناک کی ناپ اس کے پاس تھی۔"      ( ١٩٩٣ء، قومی زبان، کراچی، جولائی، ٦٧ ) ٢ - ناپ تول کرنے یا پیمائش کرنے کا آلہ، پیمانہ یا ظرف۔ "اور اس کے بعد تجربات کو انہیں پیمانوں سے ناپ ناپ کر مقررہ بوتلوں میں بھرتا ہے۔"      ( ١٩٨٨ء، ارمغانِ عالی، ٢٦ )