نثر

قسم کلام: اسم کیفیت

معنی

١ - (لفظاً) بکھری ہوئی چیز، بکھیرنا، چھٹکانا۔ (فرہنگِ عامرہ)۔ ٢ - [ ادب ]  سخنِ پاشیدہ، وہ عبارت جو نظم نہ ہو، غیر منظوم تحریر یا تصنیف۔ "ان کی اس تہذیبی بصیرت کے نشانات ان کی شاعری اور نثر میں متعدد جگہ ملتے ہیں۔"      ( ١٩٩٥ء، نگار، کراچی، مارچ، ٧٢ )

اشتقاق

عربی زبان میں زبان مجرد کے باب سے اسم مصدر ہے۔ عربی سے من و عن اردو میں داخل ہوا اور بطور اسم استعمال ہوتا ہے۔ اردو میں سب سے پہلے ١٦٢٥ء کو "سب رس" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

٢ - [ ادب ]  سخنِ پاشیدہ، وہ عبارت جو نظم نہ ہو، غیر منظوم تحریر یا تصنیف۔ "ان کی اس تہذیبی بصیرت کے نشانات ان کی شاعری اور نثر میں متعدد جگہ ملتے ہیں۔"      ( ١٩٩٥ء، نگار، کراچی، مارچ، ٧٢ )

اصل لفظ: نثر
جنس: مؤنث