نجابت

قسم کلام: اسم مجرد

معنی

١ - اصالت، بزرگواری، شرافت، عالی خاندانی۔ "مجھے شبہ تھا کہ شاید رنڈی ونڈی کی لڑکی ہو گی لیکن نجابت میں کہیں سے فرق نہیں نکلا۔"      ( ١٩٦٩ء، افسانہ کر دیا، ٢٠ ) ٢ - فیاضی، سخاوت۔ "دولت اور نجابت آپس میں سوکن ہے۔"      ( ١٨٨٠ء، آبِ حیات، ٢٣٨ )

اشتقاق

عربی زبان میں ثلاثی مجرد کے باب سے مشتق اسم ہے۔ عربی سے من و عن اردو میں داخل ہوا اور بطور اسم استعمال ہوتا ہے۔ اردو میں سب سے پہلے ١٧٤١ء کو "دیوانِ شاکر ناجی" میں تحریراً مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - اصالت، بزرگواری، شرافت، عالی خاندانی۔ "مجھے شبہ تھا کہ شاید رنڈی ونڈی کی لڑکی ہو گی لیکن نجابت میں کہیں سے فرق نہیں نکلا۔"      ( ١٩٦٩ء، افسانہ کر دیا، ٢٠ ) ٢ - فیاضی، سخاوت۔ "دولت اور نجابت آپس میں سوکن ہے۔"      ( ١٨٨٠ء، آبِ حیات، ٢٣٨ )

اصل لفظ: نجب
جنس: مؤنث