نجات

قسم کلام: اسم کیفیت

معنی

١ - مخلصی، رہائی، آزادی، بریت، چھٹکارا۔ "پہلی منزل اس غورو فکر اور تردد و اضطراب میں گزری کہ انسان کی فلاح نجات کے لیے گوئی صحیح راستہ نظر آئے۔"      ( ١٩٦٣ء، محسن اعظم اور محسنین، ٢٣ ) ٢ - معافی، عفو، گناہ، رستگاری، نِروان۔  نجات واسطے انسان کی دونوں عالم میں ہے بندگی کا ثمر لا الہ الا اللہ      ( ١٩٨٨ء، مرج البحرین، ١٣ )

اشتقاق

عربی زبان میں ثلاثی مجرد کے باب سے مشتق اسم ہے۔ عربی سے من و عن داخل ہوا اور بطور اسم استعمال ہوتا ہے۔ اردو میں سب سے پہلے ١٦١١ء کو "دیوانِ قطب شاہ" میں تحریراً مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - مخلصی، رہائی، آزادی، بریت، چھٹکارا۔ "پہلی منزل اس غورو فکر اور تردد و اضطراب میں گزری کہ انسان کی فلاح نجات کے لیے گوئی صحیح راستہ نظر آئے۔"      ( ١٩٦٣ء، محسن اعظم اور محسنین، ٢٣ )

اصل لفظ: نجی
جنس: مؤنث