نجاست

قسم کلام: اسم نکرہ

معنی

١ - ناپاکی، گندگی، آلائش، غلاظت؛ (فقہ) گندگی، ناپاکی، (جو حدث اور خبث دونوں میں شامل ہے)۔ "وہ دل جو معصیت کی نحوسَت، گناہوں کی نجاست سے پتھر کی طرح سخت ہو گئے تھے۔"      ( ١٩٨٩ء، ارباب علم و کمال اور پیشہ رزق حلال، ٩٣ ) ٢ - گھورا، کھاد؛ بول و براز، پاخانہ، گوموت۔ تالاب، حوض، نہر کا پانی اس میں کوئی نجاست بھی گر جائے تو ناپاک نہیں ہوتا۔"      ( ١٩٧١ء، معارف القرآن، ٤٧٢:٦ )

اشتقاق

عربی زبان میں ثلاثی مجرد کے باب سے مشتق اسم ہے۔ عربی سے بعینہ اردو میں داخل ہوا اور بطور اسم استعمال ہوتا ہے۔ اردو میں سب سے پہلے ١٦٦٥ء کو "علی نامہ" میں تحریراً مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - ناپاکی، گندگی، آلائش، غلاظت؛ (فقہ) گندگی، ناپاکی، (جو حدث اور خبث دونوں میں شامل ہے)۔ "وہ دل جو معصیت کی نحوسَت، گناہوں کی نجاست سے پتھر کی طرح سخت ہو گئے تھے۔"      ( ١٩٨٩ء، ارباب علم و کمال اور پیشہ رزق حلال، ٩٣ ) ٢ - گھورا، کھاد؛ بول و براز، پاخانہ، گوموت۔ تالاب، حوض، نہر کا پانی اس میں کوئی نجاست بھی گر جائے تو ناپاک نہیں ہوتا۔"      ( ١٩٧١ء، معارف القرآن، ٤٧٢:٦ )

اصل لفظ: نجس
جنس: مؤنث