نحوست

قسم کلام: اسم کیفیت

معنی

١ - نامبارکی، بدشگونی، ناسازگاری، ناموافقت، بُرا اثر۔ "زمانہ قدیم سے اہل زمین ان کو نحوست کی علامت اور آفاتِ آسمانی کا پیش خیمہ قرار دیتے رہے ہیں۔"      ( ١٩٩٠ء، معراج اور سائنس، ٢٢٧ ) ٢ - مصیبت، ادبار، دلدر، بدطالعی، بدقسمتی، کم بختی، شامت۔ "روئی کا بھی آسرا ہوا سواری بھی ملی غرض اس نیک اختر کے پیدا ہونے سے نحوست ٹلی۔"      ( ١٨٩٧ء، تاریخِ ہندوستان، ٧٢:٦ )

اشتقاق

عربی زبان میں ثلاثی مجرد کے باب سے مشتق اسم ہے۔ عربی سے من و عن اردو میں داخل ہوا اور بطور اسم استعمال ہوتا ہے۔ اردو میں سب سے پہلے ١٦٦٥ء کو "علی نامہ" میں تحریراً مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - نامبارکی، بدشگونی، ناسازگاری، ناموافقت، بُرا اثر۔ "زمانہ قدیم سے اہل زمین ان کو نحوست کی علامت اور آفاتِ آسمانی کا پیش خیمہ قرار دیتے رہے ہیں۔"      ( ١٩٩٠ء، معراج اور سائنس، ٢٢٧ ) ٢ - مصیبت، ادبار، دلدر، بدطالعی، بدقسمتی، کم بختی، شامت۔ "روئی کا بھی آسرا ہوا سواری بھی ملی غرض اس نیک اختر کے پیدا ہونے سے نحوست ٹلی۔"      ( ١٨٩٧ء، تاریخِ ہندوستان، ٧٢:٦ )

اصل لفظ: نحس
جنس: مؤنث