نرخرا

قسم کلام: اسم نکرہ

معنی

١ - ٹینٹوا، حلقوم، گلے کی نالی، گلے کی وہ نالی جس سے سانس آتی جاتی ہے، حنجرہ (حلق کی نالی کا بیرونی حصہ)۔ "نرخرہ نالی دو حصوں میں تقسیم ہوتی ہے۔"      ( ١٩٩١ء، انسانی جم، کیوں اور کیسے، ٥٥ )

اشتقاق

پراکرت الاصل لفظ 'نرکھڑا' کی تورید (اردو میں ڈھالنا، بنانا) 'نرخرا' بطور اسم استعمال ہوتا ہے۔ اور سب سے پہلے ١٨٦١ء کو "کلیاتِ اختر" میں تحریراً مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - ٹینٹوا، حلقوم، گلے کی نالی، گلے کی وہ نالی جس سے سانس آتی جاتی ہے، حنجرہ (حلق کی نالی کا بیرونی حصہ)۔ "نرخرہ نالی دو حصوں میں تقسیم ہوتی ہے۔"      ( ١٩٩١ء، انسانی جم، کیوں اور کیسے، ٥٥ )

جنس: مذکر