نزع
معنی
١ - کھینچنا، اُکھیڑنا، کھینچ کر نکالنا۔ "نزع کے معنی ایک چیز کو دوسری چیز میں سے کسی قدر سختی کے ساتھ نکالنے کے ہیں۔" ( ١٩٧١ء، معارف القرآن، ٢٤:٤ ) ٢ - جاں کنی، جسم سے روح کا نکلنا، دم ٹوٹنے کا عالم، نزاع۔ "پندرہ دن سے بسترِ مرگ پر نزع کی روح فرسا ہچکیوں میں گرفتار پڑا رہنا . ایک جہنمی عذاب تھا۔" ( ١٩٩٠ء، کالی حویلی، ٣٨ )
اشتقاق
عربی میں ثلاثی مجرد کے باب سے مشتق اسم ہے۔ عربی سے من و عن اردو میں داخل ہوا اور بطور اسم استعمال ہوتا ہے۔ اردو میں سب سے پہلے ١٧٠٧ء کو "کلیاتِ ولی" میں تحریراً مستعمل ملتا ہے۔
مثالیں
١ - کھینچنا، اُکھیڑنا، کھینچ کر نکالنا۔ "نزع کے معنی ایک چیز کو دوسری چیز میں سے کسی قدر سختی کے ساتھ نکالنے کے ہیں۔" ( ١٩٧١ء، معارف القرآن، ٢٤:٤ ) ٢ - جاں کنی، جسم سے روح کا نکلنا، دم ٹوٹنے کا عالم، نزاع۔ "پندرہ دن سے بسترِ مرگ پر نزع کی روح فرسا ہچکیوں میں گرفتار پڑا رہنا . ایک جہنمی عذاب تھا۔" ( ١٩٩٠ء، کالی حویلی، ٣٨ )