نسل

قسم کلام: اسم نکرہ

معنی

١ - آدمی یا حیوان کی آل اولاد، بال بچے، خاندان، نژاد، ذریت۔  ہونے کو ہے اب نسل ہی صّیاد کی غارت اے مرغِ گرفتار مبارک یہ بشارت    ( ١٩٤٢ء، سنگ و خشت، ٦٩ ) ٢ - [ نباتیات ] حیوانا، نباتات وغیرہ کا خاندان یا ذات۔ "آم خواہ کسی بھی نسل کا ہو آم ہی کہلاتا ہے۔"    ( ١٩٩٣ء، افکار، کراچی، ستمبر، ٥٨ ) ٣ - پیڑھی، بزرگوں یا اولاد کا سلسلہ۔ "ایک نسل کے بعد دوسری نسل انتقال کے لیے بات بات پر جھگڑے ہوتے۔"      ( ١٩٨٨ء، انبیائے قرآن، ٣٦٢ ) ٤ - [ حیوانیات ]  حیوانات میں ایک ہی نوع یا نسل سے تعلق رکھنے والے۔ "پالتوں حیوانات چاہے وہ زراعت کے لیے ہوں یا چاہے نمائشی ان سب کو پیڑھی بانس کہتے ہیں۔"      ( ١٩٧١ء، جینیات، ٨٢١ ) ٥ - ذات، قبیلہ، قوم۔ "تو ہماری نسل کا آدمی ہے اپنی طرف آ۔"      ( ١٩٩٨ء، ارمغان حالی، جمیل الدین عالی، فن اور شخصیت، ٥٤٧ )

اشتقاق

عربی سے اسم جامد ہے۔ عربی سے من و عن اردو داخل ہوا اور بطور اسم استعمال ہوتا ہے۔ اردو میں سب سے پہلے ١٥٦٤ء کو "دیوانِ حسن شوقی" میں تحریراً مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

٢ - [ نباتیات ] حیوانا، نباتات وغیرہ کا خاندان یا ذات۔ "آم خواہ کسی بھی نسل کا ہو آم ہی کہلاتا ہے۔"    ( ١٩٩٣ء، افکار، کراچی، ستمبر، ٥٨ ) ٣ - پیڑھی، بزرگوں یا اولاد کا سلسلہ۔ "ایک نسل کے بعد دوسری نسل انتقال کے لیے بات بات پر جھگڑے ہوتے۔"      ( ١٩٨٨ء، انبیائے قرآن، ٣٦٢ ) ٤ - [ حیوانیات ]  حیوانات میں ایک ہی نوع یا نسل سے تعلق رکھنے والے۔ "پالتوں حیوانات چاہے وہ زراعت کے لیے ہوں یا چاہے نمائشی ان سب کو پیڑھی بانس کہتے ہیں۔"      ( ١٩٧١ء، جینیات، ٨٢١ ) ٥ - ذات، قبیلہ، قوم۔ "تو ہماری نسل کا آدمی ہے اپنی طرف آ۔"      ( ١٩٩٨ء، ارمغان حالی، جمیل الدین عالی، فن اور شخصیت، ٥٤٧ )

جنس: مؤنث