ٹاٹ

قسم کلام: اسم نکرہ

معنی

١ - سن کا بنا ہوا کپڑا جس سے زیادہ تر بوریاں اور تھلیے وغیرہ تیار کیے جاتے ہیں اور موٹا جھوٹا لباس بناتے ہیں۔ "موسم برسات میں ڈربہ کے تین طرف ٹاٹ لگا دیا جائے جو بارش اور سردی سے مرغیوں کو محفوظ رکھے"      ( ١٩٥٦ء، طبیب مرغی خانہ، ٣٤ ) ٢ - چٹائی، ساہو کار کے بیٹھنے کی گدی؛ بونٹ کا وہ سبز خول جس میں چنا ہوتا ہے۔(جامع اللغات) ٣ - وہ کپڑا وغیرہ جو قیدیوں کو بستر کے لیے دیا جاتا ہے۔  ایک تسلہ اک کٹورا ایک کمل ایک ٹاٹ ہے بہت اہل توکل کے لیے سامان جیل      ( ١٩٤٢ء، سنگ و خشت، ١٤٠ ) ٤ - بنے ہوئے پٹ سن کا فرش یا جازم۔ "شام کو ایک پیٹر کے نیچے پنچایت بیٹھی ٹاٹ بچھا ہوا تھا"      ( ١٩٣٦ء، پریم چند، پریم بتیسی، ١٣٧:١ ) ٥ - اون سے بنا ہوا ٹاٹ کی طرح کو موٹا کپڑا۔ "وہ اون سے ایک قسم کا ٹاٹ بن کر بطور خیمہ کے رہتے تھے"      ( ١٩١٨، امت کی مائیں، ٥ )

اشتقاق

سنسکرت میں اصل لفظ 'تراتر' ہے جو کہ بطور اسم مستعمل ہے اردو زبان میں اس سے ماخوذ 'ٹاٹ' مستعمل ہے اصلی معنی میں ہی بطور اسم مستعمل ہے ١٦٩٧ء میں ہاشمی کے دیوان میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - سن کا بنا ہوا کپڑا جس سے زیادہ تر بوریاں اور تھلیے وغیرہ تیار کیے جاتے ہیں اور موٹا جھوٹا لباس بناتے ہیں۔ "موسم برسات میں ڈربہ کے تین طرف ٹاٹ لگا دیا جائے جو بارش اور سردی سے مرغیوں کو محفوظ رکھے"      ( ١٩٥٦ء، طبیب مرغی خانہ، ٣٤ ) ٤ - بنے ہوئے پٹ سن کا فرش یا جازم۔ "شام کو ایک پیٹر کے نیچے پنچایت بیٹھی ٹاٹ بچھا ہوا تھا"      ( ١٩٣٦ء، پریم چند، پریم بتیسی، ١٣٧:١ ) ٥ - اون سے بنا ہوا ٹاٹ کی طرح کو موٹا کپڑا۔ "وہ اون سے ایک قسم کا ٹاٹ بن کر بطور خیمہ کے رہتے تھے"      ( ١٩١٨، امت کی مائیں، ٥ )

اصل لفظ: تراتر
جنس: مذکر