ٹر
معنی
١ - مینڈک کی آواز۔ (نوراللغات : پلیٹس) ٢ - لچر بات، پوچ بات، بکواس۔ چٹانیں بھی ہوئیں ہمدرد لڑکی مزہ رپوٹر نے چکھا اپنی ٹر کا ( ١٩٣١ء، بہارستان، ٢٣٨ ) ٣ - مسلسل بولنے کی آواز، بک بک۔ "وہاں اس نے باتوں کی ایسی ٹر چھوڑ رکھی تھی کہ کسی کو بولنے ہی نہ دیا۔" ( ١٩٥٦ء، آگ کا دریا، ٥٠٩ ) ٤ - ہٹ، ضد، اکّھڑ پن۔ "بدر صاحب کچھ سیدھے ہو گئے مگر اپنی ٹر سے باز نہ آئے۔" ( ١٩٢٩ء، بہار عیش، ٣٨ ) ٥ - عید کے بعد، دوسرے دن کا میلا۔ "عید کے دوسرے دن صاحب کے ہاں ٹر میں شریک ہوئے۔" ( ١٩٦٣ء، مکتوبات ملا واحدی، ١١:٤١ ) ٧ - شیخی، خود ستائی، برائی۔ "شیخوں کی شیخی پٹھانوں کی ٹر۔" ( ١٩٢٩ء، اودھ پنچ لکھنو، ١٤، ٦:١٧ )
اشتقاق
حکایت الصوت کے حوالے سے اسم صوت 'ٹر' ہے اردو میں بطور اسم استعمال ہوتا ہے۔ ١٩٣١ء میں "بہارستان" میں مستعمل ملتا ہے۔
مثالیں
٣ - مسلسل بولنے کی آواز، بک بک۔ "وہاں اس نے باتوں کی ایسی ٹر چھوڑ رکھی تھی کہ کسی کو بولنے ہی نہ دیا۔" ( ١٩٥٦ء، آگ کا دریا، ٥٠٩ ) ٤ - ہٹ، ضد، اکّھڑ پن۔ "بدر صاحب کچھ سیدھے ہو گئے مگر اپنی ٹر سے باز نہ آئے۔" ( ١٩٢٩ء، بہار عیش، ٣٨ ) ٥ - عید کے بعد، دوسرے دن کا میلا۔ "عید کے دوسرے دن صاحب کے ہاں ٹر میں شریک ہوئے۔" ( ١٩٦٣ء، مکتوبات ملا واحدی، ١١:٤١ ) ٧ - شیخی، خود ستائی، برائی۔ "شیخوں کی شیخی پٹھانوں کی ٹر۔" ( ١٩٢٩ء، اودھ پنچ لکھنو، ١٤، ٦:١٧ )