ٹولا

قسم کلام: اسم جمع

معنی

١ - گروہ، جتھا۔ "مولانا نے کہا کہ اب مقابلہ پر پنجابی ٹولی کے ساتھ بنگالی ٹولا بھی آگیا"      ( ١٩٢٦ء، محمد علی، ٣٩٣:١ ) ٢ - کوچہ، محلہ، جس میں تقریباً ایک ہی قسم کے لوگ رہتے ہوں۔ "شہر مذکور میں کئی سرائیں اور بہت سے کڑے ٹولے محلے آباد ہیں"     "چماروں کے ٹولے میں ایک آدمی بھی نہ تھا"      ( ١٨٠٥ء، آرائش محفل، افسوس، ١١٤ )( ١٩٣٦ء، پریم چند، زاد راہ، ٤ )

اشتقاق

ہندی زبان میں بطور اسم مستعمل ہے اردو میں ہندی سے ماخوذ ہے اور اصلی حالت اور اصل معنی میں ہی عربی رسم الخط کے ساتھ ہی اردو میں بطور اسم مستعمل ہے ١٦٢٥ء میں "سیف الملوک، و بدیع الجمال" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - گروہ، جتھا۔ "مولانا نے کہا کہ اب مقابلہ پر پنجابی ٹولی کے ساتھ بنگالی ٹولا بھی آگیا"      ( ١٩٢٦ء، محمد علی، ٣٩٣:١ ) ٢ - کوچہ، محلہ، جس میں تقریباً ایک ہی قسم کے لوگ رہتے ہوں۔ "شہر مذکور میں کئی سرائیں اور بہت سے کڑے ٹولے محلے آباد ہیں"     "چماروں کے ٹولے میں ایک آدمی بھی نہ تھا"      ( ١٨٠٥ء، آرائش محفل، افسوس، ١١٤ )( ١٩٣٦ء، پریم چند، زاد راہ، ٤ )

جنس: مذکر