ٹونا

قسم کلام: اسم نکرہ

معنی

١ - جادو، منتر۔ "بنگالے کی جادوگرنیاں جن کی آنکھوں میں جادو تھا اور باتوں میں ٹونا"      ( ١٩٥٩ء، آگ کا دریا، ١٦٦ ) ٢ - ایک قسم کی گیت جو شادی بیاہ میں ڈو منیاں آرسی مصحف کے وقت گاتی ہیں جس میں دولھا سے دلھن کے ساتھ اچھے برتاؤ رکھنے کا قول و قرار لیا جاتا ہے۔  ٹونے وہ گانی، بنتے یہ بیوی کے خود غلام مصری بھی کھاتے جوتی پہ رکھ کر یہ تلخ کام      ( ١٩٣٧ء، ظریف لکھنؤی، دیوان جی، ٢٢٧:٣ ) ٣ - ٹھگوں کا مکرو فریب، مسافروں کے ساتھ دوغلی باتیں، ذومعنی کلمہ۔ (اصطلاحات پیشہ وراں، 182:8)

اشتقاق

سنسکرت کے اصل لفظ 'تنتر+کہ' سے ماخوذ اردو زبان میں 'ٹونا' مستعمل ہے اردو میں اصلی معنی میں ہی بطور اسم مستعمل ہے ١٦٣٥ء میں "سب رس" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - جادو، منتر۔ "بنگالے کی جادوگرنیاں جن کی آنکھوں میں جادو تھا اور باتوں میں ٹونا"      ( ١٩٥٩ء، آگ کا دریا، ١٦٦ )

اصل لفظ: تنتر+کہ
جنس: مذکر