ٹونٹی

قسم کلام: اسم نکرہ

معنی

١ - لوٹے یا بدھنے وغیرہ کی نلی جس میں سے پانی نکلتا ہے۔ "کہیں ٹونٹی ندارد اور ڈھکنا غائب"      ( ١٩٢١ء، گاڑھے خاں کا دُکھڑا، ٣ ) ٢ - پتلی دھار۔ "اور دست کی ٹونٹی جو پاؤں پر بٹھاتے بٹھاتے چلی ہے تو زرد زرد دست کالی کالی کیچڑ پر"      ( ١٩٢٣ء، اہل محلہ اور نااہل پڑوسی، ١٣ )

اشتقاق

سنسکرت کے اصل لفظ 'تروٹ + کا' سے ماخوذ اردو میں 'ٹونْٹی' میں مستعمل ہے اردو میں اصل معنی میں ہی بطور اسم مستعمل ہے ١٨٦٦ء میں "تہذیب الایمان" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - لوٹے یا بدھنے وغیرہ کی نلی جس میں سے پانی نکلتا ہے۔ "کہیں ٹونٹی ندارد اور ڈھکنا غائب"      ( ١٩٢١ء، گاڑھے خاں کا دُکھڑا، ٣ ) ٢ - پتلی دھار۔ "اور دست کی ٹونٹی جو پاؤں پر بٹھاتے بٹھاتے چلی ہے تو زرد زرد دست کالی کالی کیچڑ پر"      ( ١٩٢٣ء، اہل محلہ اور نااہل پڑوسی، ١٣ )

اصل لفظ: تروٹ+کا
جنس: مؤنث