ٹوٹ

قسم کلام: اسم کیفیت

معنی

١ - شکستگی۔  ٹوٹ نیں کچھ حق سوں دل کی لاب میں سن تو ہے قدسی حدیث اس باب میں      ( ١٧٥٤ء، ریاض غوثیہ، ١٢٩ ) ٢ - نقصان، خسارہ، گھاٹا، کمی۔ "ہر آئینہ آزمائش کرتے ہیں ہم تمہارے تئیں اے مومناں . تجارت میں ٹوٹ اور زراعت میں محصول کم ہو"      ( ١٧٧٢ء، شاہ میر، انتباۃ الطالبین، ٦٥ ) ٣ - فرق، کسر۔ "عاشق کی بات توڑنے کو اس میں ٹوٹ نہیں عاشق کے دل پر جو گزرتا سو جھوٹ نہیں"      ( ١٦٣٥ء، سب رس، ١٥٩ )

اشتقاق

سنسکرت سے ماخوذ اردو مصدر 'ٹوٹنا' سے مشتق حاصل مصدر ہے اردو میں بطور اسم مستعمل ہے ١٥٨٢ء میں "کلمۃ الحقائق" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

٢ - نقصان، خسارہ، گھاٹا، کمی۔ "ہر آئینہ آزمائش کرتے ہیں ہم تمہارے تئیں اے مومناں . تجارت میں ٹوٹ اور زراعت میں محصول کم ہو"      ( ١٧٧٢ء، شاہ میر، انتباۃ الطالبین، ٦٥ ) ٣ - فرق، کسر۔ "عاشق کی بات توڑنے کو اس میں ٹوٹ نہیں عاشق کے دل پر جو گزرتا سو جھوٹ نہیں"      ( ١٦٣٥ء، سب رس، ١٥٩ )

اصل لفظ: تروٹ
جنس: مؤنث