ٹوپ
معنی
١ - بڑی ٹوپی جس سے کان ڈھک جاتے ہیں، اس میں روئی بھری ہوتی ہے اور جھاڑوں میں پہنی جاتی ہے۔ "یہ روئی کا ایک ٹوپ ہے جو استعمال کی حالت میں کانوں کو ڈھک سکتا ہے" ( ١٩٠٧ء، سفر نامۂ ہندوستان، حسن نظامی، ٥٨ ) ٢ - انگریزی ٹوپی، ہیٹ۔ "انگریزوں سے ملنے جاتے تو صرف ٹوپ ہاتھ میں لے لیتے" ( ١٩٢٢ء، گوشۂ عافیت، ١٦٣:١ ) ٣ - خود، وہ لوہے کی ٹوپی جو لڑائی کے وقت پہن لیتے ہیں۔ (نوراللغات) سر پہ لینا لہوے کے وار پہ وار یے سپرباج ٹوپ بن توڑا ( ١٧١٧ء، بحری، کلیات، ١٤٧ ) ٥ - [ نباتیات ] برقعہ، ٹوپا، پوشش گل۔ "غمامہ یا ٹوپ (Calyptra) جو صّرہ کو ڈھانکے ہوئے رہتا ہے۔" ( ١٩٣٨ء، عملی نباتیات، ١٣٥ )
اشتقاق
ہندی زبان میں بطور اسم مستعمل ہے ہندی قواعد کے مطابق اسم 'ٹوپی' کی 'ی' حذف کر کے 'مکبر' بنایا گیا ہے اردو میں ہندی سے ماخوذ ہے اور اصلی حالت اور اصل معنی میں ہی عربی رسم الخط کے ساتھ اردو زبان میں مستعمل ہے ١٧١٧ء میں بحری کے "کلیات" میں مستعمل ملتا ہے۔
مثالیں
١ - بڑی ٹوپی جس سے کان ڈھک جاتے ہیں، اس میں روئی بھری ہوتی ہے اور جھاڑوں میں پہنی جاتی ہے۔ "یہ روئی کا ایک ٹوپ ہے جو استعمال کی حالت میں کانوں کو ڈھک سکتا ہے" ( ١٩٠٧ء، سفر نامۂ ہندوستان، حسن نظامی، ٥٨ ) ٢ - انگریزی ٹوپی، ہیٹ۔ "انگریزوں سے ملنے جاتے تو صرف ٹوپ ہاتھ میں لے لیتے" ( ١٩٢٢ء، گوشۂ عافیت، ١٦٣:١ ) ٥ - [ نباتیات ] برقعہ، ٹوپا، پوشش گل۔ "غمامہ یا ٹوپ (Calyptra) جو صّرہ کو ڈھانکے ہوئے رہتا ہے۔" ( ١٩٣٨ء، عملی نباتیات، ١٣٥ )