ٹوک

قسم کلام: اسم کیفیت

معنی

١ - مزاحمت، تعرض (عموماً روک ٹوک یا ٹوک ٹاک)۔ "حیات صاحب کے اعتراض اور ٹوک نے تو بالکل ہی کھو دیا۔"      ( ١٩٢٨ء، پس پردہ، ٣٠ ) ٢ - نظرگزر، نظربد۔ (نوراللغات؛ جامع اللغات)

اشتقاق

سنسکرت سے ماخوذ اردو مصدر 'ٹوکنا' سے مشتق حاصل مصدر ہے اردو میں بطور اسم مستعمل ہے۔ ١٩٢٨ء میں "پس پردہ" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - مزاحمت، تعرض (عموماً روک ٹوک یا ٹوک ٹاک)۔ "حیات صاحب کے اعتراض اور ٹوک نے تو بالکل ہی کھو دیا۔"      ( ١٩٢٨ء، پس پردہ، ٣٠ )

اصل لفظ: ترکیا
جنس: مؤنث