ٹوکرا
معنی
١ - بانس یا جھاؤ وغیرہ کا بنایا ہوا ظرف، جھابا، جھلی، جھلا، چھبڑا، ڈلا، سبد۔ "اس کے تنے سے ٹوکرے اور چلمن بنائی جاتی۔" ( ١٩٠٧ء، مصرف جنگلات، ٢٥٣ ) ٢ - ایک قسم کی چھوٹی سی کشتی، ڈونگا، بجرا۔ "دریاؤں کے پار اترنے میں ٹوکرے کشتیوں سے زیادہ بے خطر ہوتے ہیں۔" ( ١٨٩٤ء، مفتوح فاتح، ٩١ ) ٣ - [ کنایۃ ] بوجھ جیسے ذلت کا ٹوکرا یا بطور طنز عزت یا علمیت وغیرہ کا ٹوکرا۔ کیوں عبث پھرتا ہے ہم رندوں کے سر پر رات دن ٹوکرا بدنامیوں کا آسماں ہو جائے گا ( ١٨٨٤ء، قدر (نورالغات) )
اشتقاق
سنسکرت کے اصل لفظ 'ستوک + ر + کہ' سے ماخوذ اردو زبان میں 'ٹوکرا' مستعمل ہے۔ اردو میں اصل معنی میں ہی بطور اسم مستعمل ہے۔ ١٦٢١ء میں "خالق باری" میں مستعمل ملتا ہے۔
مثالیں
١ - بانس یا جھاؤ وغیرہ کا بنایا ہوا ظرف، جھابا، جھلی، جھلا، چھبڑا، ڈلا، سبد۔ "اس کے تنے سے ٹوکرے اور چلمن بنائی جاتی۔" ( ١٩٠٧ء، مصرف جنگلات، ٢٥٣ ) ٢ - ایک قسم کی چھوٹی سی کشتی، ڈونگا، بجرا۔ "دریاؤں کے پار اترنے میں ٹوکرے کشتیوں سے زیادہ بے خطر ہوتے ہیں۔" ( ١٨٩٤ء، مفتوح فاتح، ٩١ )