ٹٹول

قسم کلام: اسم کیفیت

معنی

١ - تجسس، تلاش، ٹوہ۔ "ایک دوسرے کے حالات کی ٹٹول اور باتوں کی تفتیش میں نہ رہا کرو"      ( ١٩٠٦ء، الحقوق والفرائض، ١٧٢:٣ ) ٢ - ہاتھ سے چھونا، چھو کر معلوم کرنا، لمس، مَس۔ (پلیٹس؛ فرہنگ آصفیہ)

اشتقاق

ہندی زبان سے ماخوذ اردو میں مصدر 'ٹٹولنا' سے مشتق حاصل مصدر ہے اردو میں بطور اسم مستعمل ہے ١٨٩٩ء میں "رویائے صادقہ" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - تجسس، تلاش، ٹوہ۔ "ایک دوسرے کے حالات کی ٹٹول اور باتوں کی تفتیش میں نہ رہا کرو"      ( ١٩٠٦ء، الحقوق والفرائض، ١٧٢:٣ )

اصل لفظ: ٹٹولنا
جنس: مؤنث