ٹک
قسم کلام: صفت ذاتی ( واحد )
معنی
١ - کچھ، تھوڑا، ذرا؛ ذرا سی دیر، تھوڑی سی مدت۔ "سرخی شام شفق ٹک دیکھو خون سر سو فاراں، لالہ زاراں۔" ( ١٩٦٢ء، ہفت کشور، ٧٨ )
اشتقاق
سنسکرت کے اصل لفظ 'ستوکن' سے ماخوذ اردو زبان میں 'ٹک' مستعمل ہے اردو میں اصلی معنی میں ہی بطور اسم اور گاہے بطور متعلق فعل مستعمل ہے۔ ١٦٠٩ء میں "قطب مشتری" میں مستعمل ملتا ہے۔
مثالیں
١ - کچھ، تھوڑا، ذرا؛ ذرا سی دیر، تھوڑی سی مدت۔ "سرخی شام شفق ٹک دیکھو خون سر سو فاراں، لالہ زاراں۔" ( ١٩٦٢ء، ہفت کشور، ٧٨ )
اصل لفظ: ستوکن