ٹکسال

قسم کلام: اسم ظرف مکاں

معنی

١ - روپیہ پیسہ بنانے کا کارخانہ، وہ جگہ جہاں نوٹ اور چاندی سونے وغیرہ کے سکے بنتے ہیں، دار الضرب، (مجازاً) معیار، کسوٹی۔ "قلعہ کے پاس ہی ایک دوسری سڑک پر ٹکسال ہے جس میں ڈالر روپے اکنی اور پیسے بڑی صفائی اور خوش اسلوبی کے ساتھ بنتے اور تول پرکھا کر تیار ہوتے ہیں"      ( ١٩١٣ء، سیر پنجاب، ٢٨ )

اشتقاق

سنسکرت کے اصل لفظ 'ٹنک شالا' سے ماخوذ اردو زبان میں 'ٹکسال' مستعمل ہے اردو میں بطور اسم مستعمل ہے ١٦٩٥ء میں "مثنوی دیپک پتنگ" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - روپیہ پیسہ بنانے کا کارخانہ، وہ جگہ جہاں نوٹ اور چاندی سونے وغیرہ کے سکے بنتے ہیں، دار الضرب، (مجازاً) معیار، کسوٹی۔ "قلعہ کے پاس ہی ایک دوسری سڑک پر ٹکسال ہے جس میں ڈالر روپے اکنی اور پیسے بڑی صفائی اور خوش اسلوبی کے ساتھ بنتے اور تول پرکھا کر تیار ہوتے ہیں"      ( ١٩١٣ء، سیر پنجاب، ٢٨ )

اصل لفظ: ٹنکشالا
جنس: مؤنث