ٹکور

قسم کلام: اسم نکرہ

معنی

١ - ضرب، چوٹ؛ ٹھیس، ہلکا دھکا، مکی مارنے کا عمل۔ (ماخوذ: نوراللغات) ٢ - نوبت کی آواز، صداے نقارہ، تاشے نقارے اور اسی قسم کے باجوں پر ٹوٹی (چھڑی) کی ہلکی ضرب جو دھیمی آواز نکالنے کو لگائی جائے۔ "جب رات کے بارہ بجے اور نوبت کی ٹکوریں سنیں تو فرط شادی سے دل باغ باغ ہونے لگا۔"      ( ١٩٢٤ء، 'اودھ پنچ' لکھنؤ، ٩، ٦:٣٧ )

اشتقاق

سنسکرت میں اصل لفظ 'ستنک' سے مشتق اردو زبان میں 'ٹکور' مستعمل ہے اردو میں اصلی معنی میں ہی بطور اسم مستعمل ہے تحریری طور پر ١٨٦٢ء میں "شبستان سرور" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

٢ - نوبت کی آواز، صداے نقارہ، تاشے نقارے اور اسی قسم کے باجوں پر ٹوٹی (چھڑی) کی ہلکی ضرب جو دھیمی آواز نکالنے کو لگائی جائے۔ "جب رات کے بارہ بجے اور نوبت کی ٹکوریں سنیں تو فرط شادی سے دل باغ باغ ہونے لگا۔"      ( ١٩٢٤ء، 'اودھ پنچ' لکھنؤ، ٩، ٦:٣٧ )

اصل لفظ: ستنک
جنس: مؤنث