ٹھاکر

قسم کلام: اسم نکرہ

معنی

١ - دیوتا، ایشور کی مورت۔ "مذہب بھی عجیب شے ہے، مانو تو ٹھاکر نہ مانو تو پتھر۔"      ( ١٩٦١ء، سات سمندرپار، ١٥٤ ) ٢ - مالک، سردار، زمیندار۔ "بادشاہ کے تمام احکامات ٹھاکروں، چودھریوں اور پٹواریوں کو سنا دیئے ہیں۔"      ( ١٩٠٣ء، چراغ دہلی، ٢٩١ ) ٣ - ذات کے اعتبار سے اونچا، سدھ، سردار۔ "اس کے سوا ایک اور اسکول شہر ہی میں ہے جو خاص ٹھاکروں اور سرداروں کی اولاد کے لیے مخصوص ہے۔"      ( ١٨٨٠ء، مقالات حالی، ١٥٧:١ ) ٤ - راجپوت، چھتری۔ "تمام راجپوت رعایا کا امتیازی لقب آئیندہ سے بجائے میاں کے ٹھاکر ہو۔"      ( ١٩٥٦ء، مضامین محفوظ علی، ٨٤ ) ٥ - عزت کا لفظ، حضرت، جناب، صاحب وغیرہ کا ہم معنی۔ "ٹھاکر جی، اس بار تو معافی دے دو، آئندہ ایسی غلطی نہیں ہو گی۔"    ( ١٨٩١ء، فرہنگ آصفیہ۔ )

اشتقاق

سنسکرت کے اصل لفظ 'ٹھکرہ' سے ماخوذ اردو زبان میں ٹھاکر مستعمل ہے۔ اردو میں اصل معنی میں ہی بطور اسم مستعمل ہے۔ ١٦٥٤ء "گنج شریف" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - دیوتا، ایشور کی مورت۔ "مذہب بھی عجیب شے ہے، مانو تو ٹھاکر نہ مانو تو پتھر۔"      ( ١٩٦١ء، سات سمندرپار، ١٥٤ ) ٢ - مالک، سردار، زمیندار۔ "بادشاہ کے تمام احکامات ٹھاکروں، چودھریوں اور پٹواریوں کو سنا دیئے ہیں۔"      ( ١٩٠٣ء، چراغ دہلی، ٢٩١ ) ٣ - ذات کے اعتبار سے اونچا، سدھ، سردار۔ "اس کے سوا ایک اور اسکول شہر ہی میں ہے جو خاص ٹھاکروں اور سرداروں کی اولاد کے لیے مخصوص ہے۔"      ( ١٨٨٠ء، مقالات حالی، ١٥٧:١ ) ٤ - راجپوت، چھتری۔ "تمام راجپوت رعایا کا امتیازی لقب آئیندہ سے بجائے میاں کے ٹھاکر ہو۔"      ( ١٩٥٦ء، مضامین محفوظ علی، ٨٤ ) ٥ - عزت کا لفظ، حضرت، جناب، صاحب وغیرہ کا ہم معنی۔ "ٹھاکر جی، اس بار تو معافی دے دو، آئندہ ایسی غلطی نہیں ہو گی۔"    ( ١٨٩١ء، فرہنگ آصفیہ۔ )

اصل لفظ: ٹھکّرہ
جنس: مذکر