ٹھمری
قسم کلام: اسم معرفہ
معنی
١ - ایک قسم کا چھوٹا دوبول کا گیت جس میں عورت کی جانب سے اظہار عشق ہوتا ہے۔ نجد کے نغمے کہاں ان ٹھمریوں کے سامنے دیس کو جس نے بھلایا یہ وہی کھماچ ہے ( ١٩٢١ء، اکبر، کلیات، ٣٠٠:٢ ) ٢ - جھوٹی بات، افواہ، گپ۔ (فرہنگ آصفیہ)
اشتقاق
سنسکرت میں اصل 'ستبھ+ ر+ اِکا سے ماخوذ اردو زبان میں 'ٹھمری' مستعمل ہے اردو میں اصل معنی میں ہی بطور اسم مستعمل ہے۔ ١٧٩٥ء میں "طوطی نامہ" میں مستعمل ملتا ہے۔
اصل لفظ: ستْبھ+ر+اِکا
جنس: مؤنث