ٹھمکنا

قسم کلام: فعل لازم

معنی

١ - ناز و انداز سے چلنا، مٹکنا۔  غسل کے واسطے ہر روز دل آرا ٹھمکتی چال سیں جاتی بدر یا      ( ١٧٨٥ء، لطفی، قصہ بہلول صادق (ق)، ٣ )

اشتقاق

سنسکرت سے ماخوذ اردو زبان میں بطور اسم مستعمل لفظ 'ٹھمک' کے ساتھ اردو لاحقۂ مصدر 'نا' لگنے سے 'ٹھمکنا' بنا اردو زبان میں بطور مصدر مستعمل ہے۔ ١٦١١ء میں قلی قطب شاہ کے کلیات میں مستعمل ملتا ہے۔

اصل لفظ: ستمبھ+کر