ٹھنڈا

قسم کلام: صفت ذاتی

معنی

١ - سرد، خنک، جس میں گرمی یا حرارت نہو۔ "گھروں کے دروازے بند ہو چکے تھے الاؤ بھی ٹھنڈے ہو گئے تھے۔"      ( ١٩٢٣ء، گوشۂ عافیت، ١٦٩:١ ) ٢ - [ مجازا ]  بے حِس، جذبات سے عاری، سرد مہر۔ "آپ مسلمانوں کو اس قدر ٹھنڈا نہ سمجھیں"      ( ١٩٣٧ء، اشارات، ٢٢ ) ٤ - [ خاصیتا ]  گرمی دور کرنے والا، فرحت دینے والا، سکون بخش۔  گرے جو اشک مژگاں سے مرے تن سے لگا لے تو کہ خس کا عطر ہوتا ہے سنا رشک قمر ٹھنڈا      ( ١٨٤٥ء، کلیات ظفر، ٢٤:١ )

اشتقاق

سنسکرت سے ماخوذ اردو زبان میں بطور اسم مستعمل لفظ 'ٹھنڈ' کے ساتھ 'ا' بطور لاحقہ تذکیر و توصیف لگانے سے 'ٹھنڈا' بنا اردو میں بطور اسم صفت مستعمل ہے ١٨٤٥ء میں "کلیات ظفر" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - سرد، خنک، جس میں گرمی یا حرارت نہو۔ "گھروں کے دروازے بند ہو چکے تھے الاؤ بھی ٹھنڈے ہو گئے تھے۔"      ( ١٩٢٣ء، گوشۂ عافیت، ١٦٩:١ ) ٢ - [ مجازا ]  بے حِس، جذبات سے عاری، سرد مہر۔ "آپ مسلمانوں کو اس قدر ٹھنڈا نہ سمجھیں"      ( ١٩٣٧ء، اشارات، ٢٢ )

اصل لفظ: ستبدھ
جنس: مذکر