ٹھوکنا
معنی
١ - گاڑنا ضرب لگا کر داخل کرنا؛ گھسانا۔ "قلم کا ایک رخ قلمی تراش کر سخت ٹھوک دیں۔" ( ١٩٣٠ء، شفتالو، ٣٩ ) ٢ - زد و کوب کرنا، لات مکے مارنا۔ "نوکر سے فرمایا اس فقیر کو اسیر کر کے خوب ٹھوک۔" ( ١٨٢٤ء، سیر عشرت، ٨٢ ) ٤ - پکانا (روٹیوں کے ساتھ)۔ "وہ کون ہیں آپ کے وہ روٹیاں ٹھونکنے والے شبراتی"۔ ( ١٩٦٥ء، چار ناولٹ، ١٤٦ ) ٥ - عرضی دینا، نالش کرنا۔ "نالش ٹھونکنا۔" ( ١٩٢٤ء، نوراللغات ) ٦ - جڑنا، لگانا۔ "قفل ٹھوکنا۔" ( ١٩٢٤ء، نوراللغات۔ ) ٧ - (تیل وغیرہ) ہاتھ سے تھپک تھپک کر جذب کرنا۔ "کبھی ہمارے سر میں تیل ٹھونکتا۔" ( ١٩١٥ء، سجاد حسین، حاجی بغلول، ٦ ) ٨ - (طبلہ وغیرہ پر) ضرب لگا کر بجانے کے لیے درست یا تیار کرنا۔ "کوئی طبلے کے پڑے ٹھونک کر چست کرتا ہے۔" ( ١٨٩٧ء، انتخاب طلسم ہوشربا، ١٩٧ ) ١٠ - کھٹکھٹانا۔ "بلال دروازے پر ابوبکر ہور عمر کے آئے کہ یو افضل اصحاب ہیں ہور دروازہ ٹھونکے۔" ( ١٦٩٧ء، پنج گنج، ٦٥ )
اشتقاق
سنسکرت کے اصل لفظ 'توکش' سے ماخوذ اردو زبان میں 'ٹھوک' مستعمل ہے اس کے ساتھ اردو لاحقۂ مصدر 'نا' لگنے سے 'ٹھوکنا' بنا۔ اردو میں بطور مصدر مستعمل ہے۔ ١٦٣٥ء میں "سب رس" میں مستعمل ملتا ہے۔
مثالیں
١ - گاڑنا ضرب لگا کر داخل کرنا؛ گھسانا۔ "قلم کا ایک رخ قلمی تراش کر سخت ٹھوک دیں۔" ( ١٩٣٠ء، شفتالو، ٣٩ ) ٢ - زد و کوب کرنا، لات مکے مارنا۔ "نوکر سے فرمایا اس فقیر کو اسیر کر کے خوب ٹھوک۔" ( ١٨٢٤ء، سیر عشرت، ٨٢ ) ٤ - پکانا (روٹیوں کے ساتھ)۔ "وہ کون ہیں آپ کے وہ روٹیاں ٹھونکنے والے شبراتی"۔ ( ١٩٦٥ء، چار ناولٹ، ١٤٦ ) ٥ - عرضی دینا، نالش کرنا۔ "نالش ٹھونکنا۔" ( ١٩٢٤ء، نوراللغات ) ٦ - جڑنا، لگانا۔ "قفل ٹھوکنا۔" ( ١٩٢٤ء، نوراللغات۔ ) ٧ - (تیل وغیرہ) ہاتھ سے تھپک تھپک کر جذب کرنا۔ "کبھی ہمارے سر میں تیل ٹھونکتا۔" ( ١٩١٥ء، سجاد حسین، حاجی بغلول، ٦ ) ٨ - (طبلہ وغیرہ پر) ضرب لگا کر بجانے کے لیے درست یا تیار کرنا۔ "کوئی طبلے کے پڑے ٹھونک کر چست کرتا ہے۔" ( ١٨٩٧ء، انتخاب طلسم ہوشربا، ١٩٧ ) ١٠ - کھٹکھٹانا۔ "بلال دروازے پر ابوبکر ہور عمر کے آئے کہ یو افضل اصحاب ہیں ہور دروازہ ٹھونکے۔" ( ١٦٩٧ء، پنج گنج، ٦٥ )