ٹھٹکنا

قسم کلام: فعل لازم

معنی

١ - چلتے چلتے رک جانا (حیرت یا خوف سے)۔ "مصر والے ان کے پاس پہنچے تو مارے ڈرکے ٹھٹھک گئے"      ( ١٩٤٥ء، الف لیلہ ولیلہ، ٦:٦ ) ٢ - رکنا، ٹھہرنا، پس و پیش کرنا۔  ٹھٹھک رہے حرم و دیر کے دورا ہے پر خلاف جانہ سکے شاہ را فطرت کے      ( ١٩٢٧ء، آیات وجدانی، یگانہ، ٢٤٩ )

اشتقاق

سنسکرت کےاصل لفظ 'ستبدھ' سے ماخوذ اردو زبان میں 'ٹھٹھک' مستعمل ہے اس کے ساتھ اردو لاحقۂ مصدر 'نا' لگنے سے 'ٹھٹھکنا' بنا اردو میں بطور مصدر مستعمل ہے ١٧١٣ء میں "دیوان فائز" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - چلتے چلتے رک جانا (حیرت یا خوف سے)۔ "مصر والے ان کے پاس پہنچے تو مارے ڈرکے ٹھٹھک گئے"      ( ١٩٤٥ء، الف لیلہ ولیلہ، ٦:٦ )

اصل لفظ: ستبدھ