ٹھپا

قسم کلام: اسم نکرہ

معنی

١ - پھول بوٹے کندہ کیا ہوا مہرا جس سے اتّو کے نشان ڈالے جاتے ہیں۔ (اصطلاحات پیشہ وراں، 165:2) ٢ - فولاد یا کانسے کا بیل بوٹا کھدا ہوا مہرا جس پر ٹھوک کر بعض زیور نقشین بنائے جاتے ہیں۔ (اصطلاحات پیشہ وراں، 25:4) ٣ - چوڑا مقیش بادلہ کا بنا ہوا گوٹا، لیس۔ "گوٹے ٹھپے سے لسے بانکڑی پیمک سے لپے دیکھ کر جی الٹتا ہے۔"    ( ١٩١٠ء، لڑکیوں کی انشا، ٩ ) ٤ - چھاپ، نقش، سکہ، ابھرواں نقش، مہر، چھاپہ، مخصوص نشان۔ "کتابیں تھیں سب کی جلدیں بندھوائیں . اور سب پر سنہری ٹھپا کیا ہوا۔"      ( ١٨٧٤ء، مجالس النسا، ٤٣:١ ) ٧ - [ مجازا ]  نمایاں امتیاز، امتیازی نشان، ممتاز وضع و روش۔ "علی گڑھ کا ایک خاص رنگ، رکھ رکھاویا ٹھپا ہوتا ہے جو اسے دوسروں سے ممتاز یا متمائز کرتا ہے۔"      ( ١٩٥٦ء، آشفتہ بیانی میری، ٣ )

اشتقاق

ہندی زبان میں بطور اسم مستعمل ہے اردو میں ہندی سے ماخوذ ہے اور اصلی حالت اور اصل معنی میں ہی عربی رسم الخط کے ساتھ ہی اردو زبان میں بطور اسم مستعمل ہے۔ ١٨٣١ء میں "دیوان ناسخ" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

٣ - چوڑا مقیش بادلہ کا بنا ہوا گوٹا، لیس۔ "گوٹے ٹھپے سے لسے بانکڑی پیمک سے لپے دیکھ کر جی الٹتا ہے۔"    ( ١٩١٠ء، لڑکیوں کی انشا، ٩ ) ٤ - چھاپ، نقش، سکہ، ابھرواں نقش، مہر، چھاپہ، مخصوص نشان۔ "کتابیں تھیں سب کی جلدیں بندھوائیں . اور سب پر سنہری ٹھپا کیا ہوا۔"      ( ١٨٧٤ء، مجالس النسا، ٤٣:١ ) ٧ - [ مجازا ]  نمایاں امتیاز، امتیازی نشان، ممتاز وضع و روش۔ "علی گڑھ کا ایک خاص رنگ، رکھ رکھاویا ٹھپا ہوتا ہے جو اسے دوسروں سے ممتاز یا متمائز کرتا ہے۔"      ( ١٩٥٦ء، آشفتہ بیانی میری، ٣ )

جنس: مذکر