ٹھکائی
قسم کلام: اسم کیفیت
معنی
١ - مارپیٹ، زد و کوب۔ "اگر تم نے شاکیہ منی کے چیلوں کا یہ گیروا پہنا وانہ پہن رکھا ہوتا تو میں تمہاری ٹھکائی کر دیتا۔" ( ١٩٥٦ء، آگ کا دریا، ٢٧ )
اشتقاق
سنسکرت سے ماخوذ اردو مصدر 'ٹھوکنا' کی 'و' حذف کر کے 'ائی' بطور لاحقہ کیفیت لگنے سے 'ٹھکائی' بنا اردو میں بطور اسم مستعمل ہے۔ ١٩٤٧ء میں فرحت کے مضامین میں مستعمل ملتا ہے۔
مثالیں
١ - مارپیٹ، زد و کوب۔ "اگر تم نے شاکیہ منی کے چیلوں کا یہ گیروا پہنا وانہ پہن رکھا ہوتا تو میں تمہاری ٹھکائی کر دیتا۔" ( ١٩٥٦ء، آگ کا دریا، ٢٧ )
اصل لفظ: توکش
جنس: مؤنث