ٹھیکا
معنی
١ - اجارہ، پٹا۔ "بعضے صیغۂ تعمیرات سرکاری میں ٹھیکے لیتے ہیں۔" ( ١٩٠٦ء، مقالات حالی، ١٧٩:١ ) ٢ - بیٹھک، جائے قرار، ٹھکانا، ٹکاؤ، ٹھہراؤ، پڑاؤ۔ "ہر گلی کوچے میں آپ کے حقہ پینے کے سینکڑوں ٹھیکے تھے۔" ( ١٩٠٠ء، ذات شریف، ١٥ ) ٣ - طبلہ بجانے کا ڈھنگ یا طریقہ، طبلے ڈھول یا ڈھولک کی تھاپ۔ "اچھا، مگر بے ٹھیکے کے ہم سے نہ گایا جائیگا۔" ( ١٨٨٠ء، فسانۂ آززاد، ٣٦٩:٣ ) ٤ - سر، الاپ، راگ کی قسم۔ "جب لے دار گفتگو کی ضرورت ہوئی . ٹھیکے کے بول سے بھر دیا۔" ( ١٩٣١ء، 'اودھ پنچ' لکھنؤ، ١٦، ٣:٣٢ ) ٥ - گھوڑے کی اچھل کود، جست۔ ٹھیکوں میں نئی شان دکھاتا ہے یہ گھوڑا آنکھوں کو معلق نظر آتا ہے یہ گھوڑا ( ١٩٢٧ء، شاد عظیم آبادی، مراثی، ١٥:٣ )
اشتقاق
سنسکرت کے اصل لفظ 'ستھر + ورتہ' سے ماخوذ اردو زبان میں 'ٹھیکا' مستعمل ہے اردو زبان میں اصل معنی میں ہی بطور اسم مستعمل ہے۔ ١٨٦١ء میں "الف لیلہ نومنظوم" میں مستعمل ہے۔
مثالیں
١ - اجارہ، پٹا۔ "بعضے صیغۂ تعمیرات سرکاری میں ٹھیکے لیتے ہیں۔" ( ١٩٠٦ء، مقالات حالی، ١٧٩:١ ) ٢ - بیٹھک، جائے قرار، ٹھکانا، ٹکاؤ، ٹھہراؤ، پڑاؤ۔ "ہر گلی کوچے میں آپ کے حقہ پینے کے سینکڑوں ٹھیکے تھے۔" ( ١٩٠٠ء، ذات شریف، ١٥ ) ٣ - طبلہ بجانے کا ڈھنگ یا طریقہ، طبلے ڈھول یا ڈھولک کی تھاپ۔ "اچھا، مگر بے ٹھیکے کے ہم سے نہ گایا جائیگا۔" ( ١٨٨٠ء، فسانۂ آززاد، ٣٦٩:٣ ) ٤ - سر، الاپ، راگ کی قسم۔ "جب لے دار گفتگو کی ضرورت ہوئی . ٹھیکے کے بول سے بھر دیا۔" ( ١٩٣١ء، 'اودھ پنچ' لکھنؤ، ١٦، ٣:٣٢ )